آپ کا بھی تجربہ ہوگا کہ کبھی کبھی کوئی قریبی فرد آپ کو بدلا ہوا لگنے لگتا ہے۔ خصوصاً شادی کے بعد خواتین کا مردوں کے حوالے سے اور مردوں کا خواتین کے حوالے سے یہ تاثر بہت عام پایا جاتا ہے۔
آپ یہ کہنے لگتے ہیں کہ کتنا بدل گیا ہے وہ! یا کتنی بدل گئی ہے وہ! لیکن کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟
دراصل کسی فرد سے تعلق کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کی زندگی کے اہم کام اور آپ کی زندگی کے اہم کام ملتے جلتے ہوتے ہیں یا زندگی انہیں ملا دیتی ہے۔
یوں یہ مشترکہ اہم کام آپ کو قریب لے آتے ہیں۔ اسی طرح کچھ رشتے ایسے بنتے ہیں کہ دو لوگ تیزی سے ایک دوسرے کی ترجیح میں اوپر آتے چلے جاتے ہیں۔
لیکن وقت کے ساتھ جو کام پہلے فرد کے نزدیک اہم تھے، وہ حالات و واقعات کی وجہ سے غیراہم ہونا شروع ہوجاتے ہیں، جبکہ دوسرے فرد کے نزدیک وہ ویسے ہی اہم رہتے ہیں۔
اب پہلے فرد کے نزدیک حالات و ترجیحات کی بنا پر کچھ اور کام اہم ہوجاتے ہیں۔ یوں وہ وجوہات جو گرمجوشی کی مشترکہ بنیاد ہوتی ہیں بدلنا شروع ہوتی ہے تو تعلق کی گرمجوشی بھی کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
اب پہلے فرد کے نزدیک دوسرے فرد کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کی توانائی اور وقت کچھ اور اہم کاموں کے لیے وقف ہوجاتا ہے۔ لیکن دوسرا فرد جو اپنے پرسیپشن کے مطابق اپنے پرانے تعلق میں ویسا ہی ہے، اسے لگنے لگتا ہے کہ پہلا فرد “کتنا بدل گیا ہے۔” اور اس کا پرسیپشن بتدریج اس کی سوچ، احساسات اور تعلقات پر غالب آتا چلا جاتا ہے۔
جبکہ حقیقت میں پہلا فرد بدلا نہیں ہوتا بلکہ اس کی ترجیحات تبدیل ہوچکی ہوتی ہیں جو اس کی زندگی اور کاموں کے لیے ضروری ہیں۔ تعلق دلی طور پر ویسا ہی گرمجوش اور محبت سے بھرپور ہوتا ہے۔ تاہم اس کا اظہار ترجیح نہیں رہتا۔
ایسا شادیوں کے بعد بھی ہوتا ہے۔ اسکول کے دوستوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ کسی فیلڈ میں ساتھ کام کرنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔ کسی اچھے دوست کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
یوں اکثر و بیشتر اوقات “فرد نہیں بدلا ہوتا ہے” بلکہ آپ کا پرسیپشن ایک جگہ پر “اسٹک” ہوجاتا ہے۔ آپ کسی فرد کو ایک جگہ اسٹک نہیں رکھ سکتے، ہاں اپنے تعلقات، اپنے پرسیپشن کی وجہ سے ضرور خراب کر لیتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں کہ “کتنا بدل گیا ہے وہ!”