اپریل 5, 2025 8:49 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

“چین کا ٹیکنالوجی میں خودکفالت کی جانب اہم قدم، ملک بھر میں RISC-V چپس کے فروغ کی پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ”

مظہر اللہ بشیر
مظہر اللہ بشیر
چپس کا زیادہ سے زیادہ استعمال مقامی کمپنیوں کو مغربی ٹیکنالوجی سے آزاد کرے گا اور قومی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
چپس کا زیادہ سے زیادہ استعمال مقامی کمپنیوں کو مغربی ٹیکنالوجی سے آزاد کرے گا اور قومی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

چین نے مغربی ملکوں کی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے اور مقامی سطح پر ڈیجیٹل خودکفالت کو فروغ دینے کے لیے ایک نئی پالیسی متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں اوپن سورس RISC-V چپس کے استعمال کو تیزی سے فروغ دیا جائے گا۔ اس حوالے سے تیار کی گئی پالیسی گائیڈ لائنز کو رواں ماہ کے آخر تک باضابطہ طور پر جاری کیے جانے کا امکان ہے، تاہم حتمی تاریخ میں ردوبدل ہو سکتا ہے۔

 

حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ پالیسی چین کی آٹھ بڑی سرکاری تنظیموں کے اشتراک سے مرتب کی جا رہی ہے، جن میں سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا، چینی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، اور چائنا نیشنل انٹیلیکچوئل پراپرٹی ایڈمنسٹریشن جیسے اہم ادارے شامل ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد چین کو چِپ ٹیکنالوجی میں مغربی کمپنیوں کے اثر و رسوخ سے آزاد کرنا اور مقامی سطح پر خودکفیل بنانا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق، RISC-V چپس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اوپن سورس ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ کسی بھی مغربی کمپنی کی ملکیت نہیں، اور ان کے استعمال پر کسی قسم کی پابندی یا رائلٹی لاگو نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ چین، جو امریکی اور یورپی کمپنیوں کے تیار کردہ پروسیسرز پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے، اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے کی حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔

 

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور امریکہ کے درمیان سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اور چپ مینوفیکچرنگ کے حوالے سے کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکہ نے حالیہ برسوں میں چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، بالخصوص ہواوے اور دیگر سیمی کنڈکٹر فرمز پر پابندیاں عائد کی ہیں، تاکہ بیجنگ کی چِپ انڈسٹری کو محدود کیا جا سکے۔ اس کے جواب میں چین نے اپنی ٹیکنالوجی کو مزید خودمختار بنانے کی حکمت عملی پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے۔

 

چینی حکومت کا ماننا ہے کہ RISC-V چپس کا زیادہ سے زیادہ استعمال مقامی کمپنیوں کو مغربی ٹیکنالوجی سے آزاد کرے گا اور قومی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس پالیسی کے تحت چین کی لوکل ٹیک انڈسٹری کو عالمی سطح پر مزید مسابقتی بنانے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ مستقبل میں ملک کی معیشت ڈیجیٹل سطح پر خودکفیل ہو سکے۔

 

توقع کی جا رہی ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد چینی کمپنیاں، تعلیمی ادارے اور ریسرچ سینٹرز RISC-V چپس کے استعمال کو ترجیح دیں گے، جس سے نہ صرف چِپ مینوفیکچرنگ کی لاگت کم ہو گی بلکہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نئی اختراعات اور ایجادات کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ یہ اقدام چین کی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کو سیمی کنڈکٹرز کے میدان میں عالمی طاقت کے طور پر ابھارنا ہے۔

مظہر اللہ بشیر ملٹی میڈیا جرنلسٹ کی حیثیت میں پاکستان میٹرز کی ٹیم کا حصہ ہیں۔

مظہر اللہ بشیر

مظہر اللہ بشیر

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس