مغربی کنارے میں نماز جمعہ کے بعد قابض اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے متعدد مساجد کو نشانہ بنایا، نابلس کی تاریخی مسجد النصر کو بھی آگ لگا دی گئی۔
فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق اسرائیلی فوج نے مساجد میں گھس کر مقدس مقامات کی بے حرمتی کی اور توڑ پھوڑ کی۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر مسجد النصر کو نذر آتش کیا، جب کہ فائر بریگیڈ کو بھی آگ بجھانے سے روک دیا گیا۔
حماس نے مقبوضہ مغربی کنارے کی مساجد پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے خلاف اسرائیل کی جارحیت اس کی مذہبی جنگ، ہمارے لوگوں اور ہماری زمین پر کا حصہ ہے۔

حماس نے ٹیلی گرام پر کہا ہے کہ رمضان میں مغربی کنارے کی مساجد پر قبضے کی جارحیت مذہبی جنگ پر اصرار ہے اور ہمارے لوگ اپنے مقدسات کی بے حرمتی پر خاموش نہیں رہیں گے۔
دوسری جانب فلسطینی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے اور شمالی مغربی کنارے کے شہر نابلس میں آٹھ مساجد پر حملے کی مذمت کی ہے۔ وزارت اپنے لوگوں، ان کی زمین، جائیداد اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے حقیقی بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتی ہے۔
The Ministry condemns the storming of 8 #mosques in the city of Nablus by the occupation forces, their vandalism, and the destruction of parts of these mosques, as well as the burning of large sections of Al-Nasr Mosque in the city’s old town.
The ministry calls for real… pic.twitter.com/yV3HZt18B0
— State of Palestine – MFA 🇵🇸🇵🇸 (@pmofa) March 7, 2025
واضح رہے کہ مسجد میں لگنے والی آگ کے باعث پیش امام کا رہائشی حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا، جب کہ مسجد کے دروازے، دیواریں اور قالین جل کر راکھ ہوگئے۔
مسجد النصر نابلس کے تاریخی ورثے کا حصہ ہے، جو ابتدائی طور پر رومن دور میں ایک چرچ کے طور پر تعمیر ہوئی تھی اور 1187 میں اسے مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کی غزہ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت میں 930 فلسطینی شہید اور 7 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔