جبوتی اور یمن کے ساحلوں کے قریب تارکین وطن سے بھری چار کشتیاں دوب گئی جس سے ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ 180 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن ( آئی او ایم) کے مطابق یہ حادثات جمعرات کی رات پیش آئے، اس راستے پر جو اب تیزی سے ایتھوپیا کے ان شہریوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے جو خلیجی ممالک میں روزگار کی تلاش میں ہیں یا اپنے ملک میں جاری تنازعات سے فرار ہونا چاہتے ہیں۔
آئی او ایم کے جاری کردہ بیان کے مطابق ‘ چار کشتیوں کے ڈوبنے کے بعد 180 سے زائد مہاجرین لا پتہ ہیں۔’
اے پی ایف کے ذرائع، آئی اوایم کے یمن میں چیف آف مشن عبدالستار ایسوئیف کے مطابق دو کشتیاں جن میں سے ایک میں کم از کم 30 افراد اور دوسری پر میں تقریبا 150 افراد سوار تھے، یمن کے ساحل کے قریب لا پتہ ہو گے۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا ہم 186 افراد کی بات کر رہے ہیں جو بدقسمتی سے سمندر میں ڈوب چکے ہوں گے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ کشتیوں میں سوار زیادہ تر افراد ایتھوپیائی مہاجرین تھے، جبکہ ان میں پانچ یمنی عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔ دونوں کشتیوں میں 57 خواتین بھی موجود تھیں۔
ایسوئیف نے کہا، “ہم حکام کے ساتھ مل کر بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں، لیکن مجھے خدشہ ہے کہ شاید ہمیں کوئی زندہ نہ ملے۔“
دیگر دو کشتیاں جبوتی کے ساحل کے قریب تیز ہواؤں کے باعث الٹی۔
انہوں نے مزید بتایا، “اطلاعات کے مطابق ایک یا دو مہاجرین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، لیکن باقی تمام کو بچا لیا گیا۔” تاہم، انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ جبوتی میں موجودآئی او ایم کے ساتھی بچ جانے والے افراد کی مدد کر رہے ہیں۔
ایسوئیف نے اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ “ایتھوپیا اور جبوتی سے یمن پہنچنے والے افراد کی تعداد بدقسمتی سے کم نہیں ہو رہی۔“
انہوں نے مزید کہا کہ اس خطرناک راستے کو اختیار کرنے والے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائے سے ہے، جو 2020 سے 2022 تک جنگ سے تباہ حال رہا ہے۔