اپریل 5, 2025 1:19 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

 ٹرمپ  سے اختلافات کے بعد یوکرین میں زیلنسکی کی مقبولیت میں 10 فیصد اضافہ

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
ٹرمپ سے اختلافات کے بعد یوکرین میں زیلنسکی کی مقبولیت میں 10 فیصد اضافہ ( فائل فوٹو:رائٹرز)

یوکرینی صدر زیلنسکی کی مقبولیت میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے اختلافات منظر عام پر آئے۔

یوکرین کے معروف ادارے کیو انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشیالوجی ( کے آئی آئی ایس)کے تازہ ترین سروے کے مطابق، فروری میں زیلنسکی کی مقبولیت 57 فیصد تھی، جو مارچ میں بڑھ کر 67 فیصد ہو گئی۔

یہ سروے 14 فروری سے 4 مارچ کے درمیان کیا گیا، جو زیلنسکی کے لیے ایک مشکل وقت تھا، کیونکہ 28 فروری کو اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے بعد یوکرین اور اس کے سب سے بڑے فوجی حامی امریکہ کے تعلقات بحران کا شکار ہو گئے تھے۔

عالمی خبر ارسان ادارہ رائٹرز کے مطابق آئی آئی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، انتون ہروشیتسکی کا کہنا ہے کہ یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ یوکرینی عوام روس کی مکمل فوجی یلغار کے تین سال بعد بھی زیلنسکی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق یوکرینی عوام امریکہ کی نئی انتظامیہ کی سخت بیان بازی کو پورے یوکرین اور تمام یوکرینیوں پر حملہ سمجھ رہے ہیں۔

ہروشیتسکی نے کہا کہ یوکرینی عوام امن چاہتی ہے، لیکن وہ کسی بھی قیمت پر امن قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق، یوکرینی عوام واقعی امن چاہتے ہیں، لیکن ہمارے نتائج مسلسل یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اکثریت کسی بھی قیمت پر امن کے خلاف ہے۔

واضح رہے کہ زیلنسکی، جو اس وقت 47 سال کے ہیں، 2019 میں یوکرین کے صدر منتخب ہوئے۔ فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد، وہ یوکرینی مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کی ملاقات کے بعد، ٹرمپ نے زیلنسکی کو “آمر” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے یوکرین میں امن کے وژن میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد، امریکہ نے یوکرین کے لیے فوجی امداد اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو معطل کر دیا۔

زیلنسکی نے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اس ہفتے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار  ہیں اور جلد از جلد کام کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن میں جو کچھ ہوا وہ قابل افسوس تھا۔

سروے میں 1,029 افراد سے فون پر انٹرویو کیے گئے، اور نتائج ملک بھر میں یکساں تھے۔ تاہم، مشرقی یوکرین میں زیلنسکی پر اعتماد کی شرح کم رہی، جو تقریباً 60 فیصد تھی۔ یوکرین کے مشرقی علاقے وہ ہیں جہاں سب سے شدید لڑائی ہو رہی ہے، روسی فوج شہر در شہر اور گاؤں در گاؤں تباہی مچا رہی ہے۔

سروے کے مطابق، مارچ کے آغاز میں 29 فیصد افراد زیلنسکی پر اعتماد نہیں کرتے تھے، جبکہ فروری میں یہ تعداد 37 فیصد تھی، جو کم ہو گئی ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس