اپریل 5, 2025 3:46 شام

English / Urdu

Follw Us on:

انڈیا میں مہنگائی کی شرح میں کمی، مرکزی بینک کی شرح سود میں کمی کا امکان

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
انڈیا میں مہنگائی کی شرح میں کمی، مرکزی بینک کی شرح سود میں کمی کا امکان

انڈیا میں فروری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 4 فیصد سے کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جو کہ گزشتہ چھ ماہ میں پہلی بار ہوگا۔

ایک سروے کے مطابق اس میں کمی کی سب سے بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں آہستہ آہستہ اضافہ ہے جو مرکزی طور پر ملکی اقتصادی صورتحال کے حوالے سے ایک خوش آئند اشارہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سروے کے مطابق فروری میں انڈیا کی سالانہ صارف قیمت انڈیکس (CPI) کی شرح 4.31 فیصد سے کم ہو کر 3.98 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔

یہ ایک اہم سنگ میل ہوگا کیونکہ مرکزی بینک، یعنی ریزرو بینک آف انڈیا (RBI)، کا درمیانی مدت کا ہدف 4 فیصد ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کروانے کا فیصلہ، لین دین موبائل ایپ سے ہوگا

گزشتہ چند مہینوں میں سردیوں کی فصل کی آمد کے باعث غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ خاص طور پر سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے جو کہ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ بن رہی تھیں۔

یہ کمی نہ صرف صارفین کے لیے خوشی کی خبر ہے بلکہ اس سے مرکزی بینک کو شرح سود میں کمی کرنے کا بھی موقع مل سکتا ہے تاکہ اقتصادی ترقی کو مزید بڑھایا جا سکے۔

اس کے علاوہ غذائی اجناس کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ سال کی سپلائی چین کے بحران کے بعد آئی ہے جب غیر متوقع بارشوں اور شدید گرمی کی لہر نے کھانے کی قیمتوں میں دوہرے ہندسوں تک اضافے کو جنم دیا تھا۔

اس میں کمی سے نہ صرف صارفین کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مرکزی بینک کو شرح سود میں کمی کرنے کی مزید حمایت ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے پاکستانی قرض کی واپسی میں ایک سال کی توسیع کر دی

عالمی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے سروے میں شامل 45 اقتصادی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ فروری میں مہنگائی کی شرح 3.98 فیصد تک کم ہو جائے گی جو کہ جنوری کی 4.31 فیصد سے کم ہے۔

اس کے ساتھ ہی تقریبا 70 فیصد ماہرین نے اس بات کی توقع ظاہر کی ہے کہ مہنگائی کی شرح ریزرو بینک کے ہدف 4 فیصد سے کم رہے گی۔

ان پیش گوئیوں کے مطابق، 12 مارچ کو جاری ہونے والے مہنگائی کے ڈیٹا میں مزید کمی کی توقع ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی کا ایک اور بڑا اثر مرکزی بینک کی شرح سود پر پڑے گا۔

فروری میں ایک چوتھائی فیصد کی کمی کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ اپریل میں ریزرو بینک اپنی شرح سود میں مزید کمی کرے گا تاکہ سست روی کا شکار معیشت کو تحریک دی جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر بھی یہ فیصلہ ایک اہم اثر ڈالے گا کیونکہ انڈیا کی معیشت ایک بڑی عالمی معیشت ہے۔

لازمی پڑھیں: قرض کا مرض لادوا، کیا پاکستانی معیشت سنبھل پائے گی؟

اگرچہ فی الحال انڈیا کے لیے خوشخبری ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں کمی آئی ہے لیکن انڈیا کے محکمہ موسمیات کی طرف سے آنے والی پیش گوئیاں کہ موسم گرما میں گرمی کی لہر جلد شروع ہو سکتی ہے خدشات کو جنم دیتی ہیں کہ مہنگائی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے۔

اس پیش گوئی کے مطابق مارچ کے مہینے میں سبزیوں کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کا امکان ہے۔

رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2024 کے مالی سال کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 4.8 فیصد تک پہنچ جائے گی لیکن 2025 کے آغاز میں اس میں کمی آ کر یہ 4.1 فیصد تک آ سکتی ہے۔

ان پیش گوئیوں کے مطابق قیمتوں میں کمی اور کمزور روپے کے اثرات کے بیچ انڈیا کی معیشت ایک بار پھر اپنی پٹری پر واپس آ سکتی ہے۔

یہ کہنا کہ انڈیا میں مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے ایک خوش آئند خبر ہے تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو موسمی حالات اور بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مالی اور اقتصادی فیصلوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔

اس بات کا امکان ہے کہ آئندہ کچھ مہینوں میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار میں دوبارہ اضافہ ہو جائے گا، لیکن اس وقت بھارت کی معیشت ایک نئی سمت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

ضرور پڑھیں: کرپٹو سمٹ: ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ڈیجیٹل کرنسی کے رہنماؤں کو اکٹھا کر لیا

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس