چلچلاتی دھوپ میں پسینہ رکنے کا نام نہ لے اور درجہ حرارت 50 ڈگری کو چھو رہا ہو ایسے میں 18 سے 25 ڈگری کا معتدل موسم انجوائے کرنے کو ملے تو کون انکار کرے گا؟ سوال مگر یہ ہے کہ ایسے موسم کے لیے بھاری بھرکم ایئرکنڈیشنر اور بجلی کے مہنگے بل کون بھگتے؟
پاکستانی صوبہ پنجاب کے جنوب میں ایک ایسا مقام ہے جہاں کے رہنے والے بغیر کسی ایئرکنڈیشنر اور مہنگی بجلی کے یہ سہولت استعمال کرتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کا گرم علاقہ اور ایسا ٹھنڈ پروگرام، یقین نہیں آتا نا؟ لیکن ماننا تو پڑے گا کیوں کہ “جنوبی پنجاب کا مری” کہلانے والا فورٹ منرو ایسا ہی ہے۔
جنوبی پنجاب کا نام سن کر ایک گرم ریتیلے میدان کا تاثر ذہن میں آتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ خطہ صرف تاریخی مقامات ہی نہیں بلکہ، صحرا، پہاڑ، جھیل، دریاؤں، جنگلات اور ہل اسٹیشن کا ایسا گلدستہ ہے جو کم کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
اس گلدستے کے خوبصورت ترین پھولوں میں سے ایک تسلیم کیا جانے والا فورٹ منرو منفرد بھی ہے اور دلچسپ بھی۔
پنجاب کے گرم ترین شہر ملتان سے 185 اور ڈیرہ غازی خان سے 85 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فورٹ منرو کوہِ سلیمان کے بلند پہاڑوں میں گھِرا ہوا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ انگریزوں نے صرف امریکا ہی نہیں بلکہ فورٹ منرو بھی دریافت کیا تھا۔
سرد علاقوں کے رہنے والے انگریز برصغیر کے وسائل پر قابو پانے کے لیے یہاں قابض ہوئے تو ان سے مقامی گرمی برداشت نہ ہو سکی۔ موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے برصغیر کے کونے کونے میں ایسے مقامات کی کھوج کی جو ٹھنڈے ہوں۔ ان مقامات تک پہنچنے کے لیے سڑکیں بنوائیں۔ انتظامیہ کے لیے گھر، دفاتر، بیمار فوجیوں کے لیے سینی ٹوریم، لانڈری جیسی سہولیات اور مقامی لوگوں کے لیے سرونٹ کوارٹر بنوائے۔
نتھیاگلی، زیارت، مری، ایبٹ آباد، سکیسر، سیلانگ، سری نگر، اوٹی، لہہ، پہلگام، مسوری اور فورٹ منرو جیسے ہل اسٹیشنز اس دور سے نمایاں ہوئے۔
فورٹ منرو ضلع ڈیرہ غازی خان میں پنجاب اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے۔ بلوچی زبان میں ”تْمن لغاری” کے نام سے معروف علاقہ سطحِ سمندر سے 6470 فٹ (1970 میٹر) بلندی رکھتا ہے۔
مقامی روایت کے مطابق یہ جگہ انیسویں صدی کے آخر میں انگریز فوجی افسر سر رابرٹ گرووز سنڈیمن نے دریافت کی، البتہ اس کا نام اس وقت کے ڈیرہ جات ڈویژن کے کمشنر، کرنل اے اے منرو کے نام پر رکھا گیا۔
جنوبی پنجاب کا یہ معروف ہل اسٹیشن لغاری خانہ بدوشوں کے لیے جنت ہے۔ موسمِ گرما میں نزدیکی اضلاع ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور مظفرگڑھ کے مقامی لوگ ہر ہفتہ یہاں کا رخ کرتے اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ محمد تقویم کا کہنا تھا کہ وہ فورٹ منرو کی سیر کے لیے عام طور پر گرمیوں میں جانا پسند کرتے ہیں کیونکہ جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں کی نسبت یہاں موسم خوشگوار ہوتا ہے، جب گرمی شدت اختیار کر جاتی ہے، تو وہ دوستوں کے ہمراہ ہفتہ وار جاتے ہیں۔
فورٹ منرو تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں۔ ملتان یا راجن پور سے ڈیرہ غازی خان، سخی سرور اور فورٹ منرو زیادہ استعمال ہونے والا روٹ ہے۔ بلوچستان میں ژوب اور کوئٹہ سے آنے والے افراد لورالائی اور پھر میختر اور رکھنی کے راستے فورٹ منرو پہنچتے ہیں۔
دماس جھیل فورٹ منرو کا سب سے خوبصورت مقام کہلاتا ہے جس کی رعنائی، دلکشی اور حسن سیاحوں کو اپنا گرویدہ بنالیتا ہے۔سردیوں میں یہ جھیل سکڑ کر اپنی خوب صورتی میں اضافہ کرتی ہے تو گرمیوں میں برساتی پانی اور خوشگوار موسم کی بدولت اس کا حسن اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔
دماس یہاں کی اکلوتی جھیل نہیں، تریموں اور لال خان جھیلیں بھی دیکھنے کے قابل ہیں۔ دماس جھیل سے مختصر فاصلے پر ایک قلعہ موجود ہے جسے عرفِ عام میں فورٹ منرو کہا جاتا ہے۔ قلعے کے اوپر ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے ساتھ موجود برجی ظاہر کرتی ہے کہ یہاں کبھی عالیشان قلعہ ہوا کرتا تھا۔
محمد تقویم کا کہنا تھا کہ محض گرمیوں میں ہی نہیں بلکہ سردیوں میں بھی یہاں کا دلچسپ اور قابلِ دید ہوتا ہے۔ مظفرگڑھ سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد سردیوں میں بھی برفباری دیکھنے کے لیے فورٹ منرو کا رخ کرتی ہے، جو جنوبی پنجاب کے علاوہ اور کہیں نہیں ملتا۔ فورٹ منرو کی قدرتی خوبصورتی، پہاڑی راستے اور وہاں کا پرسکون ماحول ہر بار جانے پر ایک نئی تازگی بخشتا ہے۔
فورٹ منرو میں موجود گورا قبرستان ایک ایسی جگہ ہے جو اپنے اندر کئی راز سموئے ہوئے ہے، جس کے بارے میں مختلف کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔

راجن پور سے تعلق رکھنے والے شہری محمد جہانزیب ریاض نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا ہے کہ گورا قبرستان کے بارےمیں کہا جاتا ہے کہ انگریز دور میں یہاں جب سڑکیں اور گھر بنے تو علاقے پر قابض گورے اہل و عیال کے ساتھ یہاں رہنے لگے، ان میں سے کچھ فوت ہوئے تو انہیں یہیں دفن کیا گیا۔
گورا قبرستان میں موجود پانچ قبریں ایسی ہیں جو ایک جنگلے میں بند ہیں اور ان پر لگے مخصوص کتبے پڑھے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک قبر جنوبی افریقہ کے 30 سالہ ایچ اسمتھ کی ہے جو نہاتے ہوئے ڈوب کر مرے تو یہاں دفن ہوئے۔
ایڈووکیٹ محمد تقویم کا کہنا ہے کہ فورٹ منرو ایک پرفضا اور دلچسپ مقام ہے اور وہ باقیوں کو بھی مشورہ دیں گے کہ وہاں جائیں اور جنت نظیر وادی کے حسن سے لطف اندوز ہوں۔ یہ ایک سکونت بخش مقام ہے جہاں آپ قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
فورٹ منرو سے چند کلومیٹر دور اناری مقام سیاحوں کے لیے ایک دلچسپ جگہ ہے کیوں کہ یہاں بادل نیچے اور لوگ اوپر ہوتے ہیں ۔ یوں لوگ بادلوں میں سے گزرتے ہوئے محظوظ ہوتے ہیں۔
فورٹ منرو کے ذائقے
ہر علاقہ اپنے منفرد کھانوں کی وجہ سے خاص انفرادیت کا حامل ہوتا ہے۔ بلوچ قبائل کی سرزمین کہلانے والا یہ علاقہ بھی روایتی بلوچی کھانوں کا اہم مرکز ہے۔ فورٹ منرو میں پائی جانے والی مٹن سجی دور دور سے سیاحوں کو یہاں لاتی ہے۔

پہلے یہاں آنے والے سیاح کھانا ساتھ لاتے تھے، مگر اب یہاں مختلف ہوٹلز کھل رہے ہیں، جہاں مقامی لوگوں کے ہاتھ کا بنا کھانا سیاحت کا لطف دوبالا کردیتا ہے۔ یہاں کے مقامی لوگ بہت مہمان نواز ہوتے ہیں اور راستہ پوچھنے پر اشارہ کر کے ٹال نہیں دیتے بلکہ آخر تک آپ کے ساتھ جاکر رہنمائی کرتے ہیں۔
محمد جہانزیب ریاض کا کہنا ہے کہ ان کا ذاتی تجربہ ہے کہ فورٹ منرو کے لوگ انتہائی مہمان نواز ہوتے ہیں، وہ سیر کے لیے آنے والوں کی خدمت اپنا فرض سمجھتے ہیں اور ان سے رات وہیں گزارنے کی درخواست بھی کرتے ہیں۔
سردیوں میں یہاں مری، چترال ودیگر شمالی علاقہ جات کی طرح برفباری ہوتی ہے۔ اس علاقے میں مختلف بلوچ قبائل آباد ہیں۔ شاہوانی، ہندیانی، علیانی، احمدانی، بجرانی قبائل لغاری قبیلے کو اپنا سردار تسلیم کرتے ہیں۔
فورٹ منرو ان مقامات میں شمار کیا جاتا ہے جہاں کی سیاحت آپ کو مایوس نہیں کرتی، تاریخ، تفریح اور ذائقے ایک جگہ جمع ہو کر یہاں کے سفر کو ایسا یادگار لمحہ بناتے ہیں۔ جو آپ کی سماجی اور خاندانی محفلوں میں برسوں تک دلچسپ موضوع رہتا ہے۔
یہ خطہ ان مقامات میں سے ہے جو 2015 میں اعلان کردہ چیئرلفٹ جیسے نمائشی اعلانات نہیں بلکہ عملی طور پر حکومتی وانتظامی توجہ سے مزید نکھر سکتا ہے۔ “ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ” اس مقام پر صادق آتا ہے۔
ہمارا تو یقین ہے، فورٹ منرو اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے، آئندہ چھٹیوں میں یہاں کی سیاحت اپنے کیلنڈر کا حصہ بنائیں، آپ بھی ‘پاکستان میٹرز’ کے قائل ہو جائیں گے۔