اپریل 4, 2025 7:39 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

سارہ شریف کا قتل کیس: والدین کی عمر بھر کی سزا کے خلاف اپیل

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
سارہ شریف کا قتل: والدین کی عمر بھر کی سزا کے خلاف اپیل

برطانیہ کی عدالت میں آج سارہ شریف کے والد اور سوتیلی ماں کی جانب سے ان کی عمر بھر کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہو رہی ہے۔

سارہ شریف، جو ایک روشن اور خوش مزاج بچی تھی، وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک ظلم کا شکار رہی تھی۔

اس بچی کو قتل کرنے کے بعد اس کے والد اور سوتیلی ماں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی مگر اب وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔

سارہ کا کیس نہ صرف اس کی بیچینی اور اذیت ناک موت کی وجہ سے بلکہ برطانیہ کے سوشل سروسز کی ناکامی کے باعث بھی ایک اہم بحث کا موضوع بنا۔

لندن کے اولڈ بیلی کورٹ میں سارہ کے قتل کا مقدمہ چلا جس میں یہ وحشت ناک حقیقت سامنے آئی کہ سارہ شریف کو اس کی سوتیلی ماں، بینش بتول اور والد عرفان شریف نے کئی سالوں تک جسمانی اذیتیں دیں۔

سارہ کی لاش اگست 2023 میں اس کے بستر پر پائی گئی۔ اس کے جسم پر شدید زخموں بریکن ہڈیوں اور جلے ہوئے نشان تھے۔

مزید پڑھیں: محمود خلیل گرفتار، آٹھ ماہ کی حاملہ بیوی پریشان: ٹرمپ کی ضد برقرار

پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سارہ کو لوہے کی چھڑی کرکٹ کے بیٹ اور درندہ صفت طریقوں سے مارا گیا تھا۔

اس کے جسم کو پلاسٹک بیگ، رسی، اور پیکیج ٹیپ سے باندھ دیا گیا تھا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکے اور اس کے سانس لینے کے لیے بیگ میں ایک سوراخ کیا گیا تھا۔

سارہ کو اس کی ضرورت کے مطابق باتھروم جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسے گندے ڈائپرز میں مبتلا کر دیا گیا۔

سارہ کے والد 43 سالہ عرفان شریف کو 40 سال کی سزا سنائی گئی جب کہ اس کی سوتیلی ماں 30 سالہ بینش بتول کو کم از کم 33 سال جیل میں گزارنے کی سزا دی گئی۔

ان دونوں نے عدالت میں کوئی پچھتاوا یا ندامت کا اظہار نہیں کیا۔ جج ‘جان کاواناگھ’ نے کہا کہ سارہ کے ساتھ کیے جانے والے ظلم اتنے سنگین تھے کہ ان کے دل میں انسانیت کا کوئی اثر باقی نہیں رہا تھا۔

جج نے یہ بھی کہا کہ سارہ کو محض اس لیے اذیتیں دی گئیں کیونکہ وہ لڑکی تھی اور اس کی سوتیلی ماں نے اس کی حفاظت کی کوئی کوشش نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ترکیہ یورپ کو درپیش مسائل سے نکال سکتا ہے؟

اس کے علاوہ سارہ کے چچا، فیصل ملک جنہیں 16 سال کی سزا سنائی گئی ہے انھوں نے بھی سزا کے خلاف اپیل کی ہے۔

ان پر الزام تھا کہ وہ اس ظلم میں شریک تھے یا اس سے واقف تھے مگر انہوں نے کچھ نہیں کیا۔

سارہ کی موت کے بعد برطانیہ میں سوشل سروسز پر شدید تنقید کی گئی کیونکہ اس کے والد نے بچی کو سکول سے نکال لیا تھا اور اس کے بعد سارہ کو گھریلو تعلیم دی جا رہی تھی۔

سارہ کے سکول نے تین بار سوشل سروسز کو اطلاع دی تھی کہ بچی پر ظلم ہو رہا ہے۔ 2019 میں ایک جج نے سارہ اور اس کے بڑے بھائی کو عرفان شریف کے حوالے کر دیا تھا حالانکہ اس کے خلاف بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے تھے۔

ضرور پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا محکمہ تعلیم میں ہزاروں ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ

یہ کیس برطانیہ کے سوشل سروسز اور دیگر حکام کی غفلت کی ایک واضح مثال تھا جس میں سارہ کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی اور اس کی مدد کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا گیا۔

سارہ کا جسم اس کے والدہ کے وطن پولینڈ لے جایا گیا جہاں اس کی تدفین کی تقریب منعقد کی گئی۔

سارہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی اور یہ کیس نہ صرف ان کے لیے بلکہ ہر اس بچے کے لیے ایک یاد دہانی ہے جو اپنے گھر میں تحفظ کے بجائے اذیت کا شکار ہوتا ہے۔

سارہ کے والدین اور چچا کی اپیلیں روبرو ہیں اور حکومت بھی ان کی سزا میں مزید شدت لانے کے لیے ایک درخواست پر غور کر رہی ہے۔

یہ کیس ایک عبرت ہے نہ صرف ان افراد کے لیے جو بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں بلکہ ان اداروں کے لیے بھی جو بچوں کے تحفظ کے لیے ذمے دار ہیں۔

سارہ کی موت کے بعد کی جانے والی تمام اپیلیں، جیل کی سزا میں تبدیلی یا اس سے بچاؤ کے اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان جیسے معصوم بچوں کا خون رائیگاں نہ جائے۔

مزید پڑھیں: ایران کے سپریم لیڈر خامنائی نےامریکا سے جوہری مذاکرات کو مسترد کردیا

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس