ہر مسلمان پر عید فطر ادا کرنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔
جس مرد یا عورت کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا تجارت کےسامان میں سے کوئی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو, تو ایسے مرد و عورت پر صدقہ الفطر ادا کرنا واجب ہے۔
یہ ہر مسلمان پر چاہے وہ آزاد ہو یا غلام، عورت ہو یا مرد، بالغ ہو یا نابالغ، اولاد کی طرف سے اس کے سرپرست کو صدقۂ فطر ادا کرنا ہوگا۔ حتیٰ کہ سرپرست کو اپنے اس بچے کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کرنا ہوگا جو عید الفطر کے دن صبح صادق سے چند لمحہ قبل ہی پیدا ہوا ہو۔
صدقۂ فطر عیدالفطر کی نماز سے پہلے ادا کر دینا چاہیے جبکہ غرباء کی آسانی کے لیے رمضان میں کسی بھی وقت صدقہ فطر دیا جاسکتا ہے۔ اگر نماز عید سے پہلے صدقہ فطر نہ دیا جاسکے تو یہ صدقہ ساقط نہیں ہوگا بلکہ بعد میں بھی اس کو ادا کرنا ہوگا ۔