اپریل 4, 2025 7:08 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ڈبہ اسکیم : ایک فون کال اور سب کچھ ختم

دانیال صدیقی
دانیال صدیقی
کراچی میں زیادہ تر یہ فراڈ بین الاقوامی صارفین کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ (فوٹو: گوگل)

 ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی دنیا میں کئی ایسی فلمیں اور سیریز تیار کی گئی ہیں،  جن میں آن لائن فراڈ اور کال سینٹر کے ذریعے سے لوگوں کے بینک اکاؤنٹ اور دیگر معلومات اسپوف کالز کے ذریعے حاصل کر کے ان کے اکاؤنٹ خالی کیے جاتے ہیں، کمال بات یہ ہے کہ وہاں یہ سب فلمایا جاتا تھا، جب کہ کراچی میں یہ کام حقیقت میں کیا جارہا ہے۔

کراچی میں منظم طور پر غیر قانونی کال سینٹرز کا پورا نیٹ ورک موجود ہے، شہر میں کئی رہائشی اور کمرشل عمارتوں میں کال سینٹرز کے نام پر جعل ساز کسی فلیٹ کو کرائے پر لے کر وہاں اس کام کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ فراڈ قومی اور بین الاقوامی   سطح پر کیا جاتا ہے، جب کہ کراچی میں زیادہ تر یہ فراڈ بین الاقوامی صارفین کے ساتھ کیا جارہا ہے۔

کال سینٹر چلانے والے افراد اپنے آپ کو کسی بھی انٹرنیشنل بینک یا انشورنس کمپنی کا نمائندہ ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح صارفین سے ان کی بینک اکاؤنٹ اور دیگر معلومات کا حصول ممکن بناتے ہیں، اس فراڈ کو ڈبہ اسکیم کہا جاتا ہے۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی معلومات کے مطابق ہائی پروفائل مصطفیٰ قتل کیس میں گرفتار مبینہ ملزم ارمغان بھی اسی ڈبہ اسکیم میں ملوث پایا گیا ہے، جہاں سافٹ ویئر ہاؤس اور کال سینٹر کے نام پر غیر ملکی صارفین کے اکاؤنٹ خالی کیے جاتے تھے۔

بنیادی طور پر ڈبہ اسکیم چلانے والوں کا یہ نیٹ ورک عموماً منظم گروہوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مختلف سطحوں پر کام کرتے ہیں۔ اس میں شامل افراد  میں  کال سینٹر ایجنٹس، جو لوگوں کو دھوکہ دینے کا کام کرتے ہیں۔ ٹیکنیکل ماہرین جو جعلی ویب سائٹس اور سافٹ ویئر تیار کرتے ہیں، منی لانڈرنگ نیٹ ورکس جو چوری شدہ رقم کو مختلف اکاؤنٹس میں تقسیم کر کے نکالتے ہیں۔

ہائی پروفائل مصطفیٰ قتل کیس میں گرفتار مبینہ ملزم ارمغان بھی اسی ڈبہ اسکیم میں ملوث پایا گیا ہے۔ (فوٹو: گوگل)

اکثر یہ نیٹ ورکس بین الاقوامی سطح پر کام کرتے ہیں اور کئی مواقع پر ایسے گروہوں کے بھارت، چین، نائیجیریا، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے تعلقات سامنے آ چکے ہیں، کچھ دھوکہ دہی کی وارداتوں میں مقامی سہولت کاروں کا بھی کردار ہوتا ہے، جو بیرونی گروہوں کو مقامی بینک اکاؤنٹس، سم کارڈز اور شناختی دستاویزات فراہم کرتے ہیں۔

اب تک کراچی میں چلنے والے ان کال سینٹرز کی مکمل تعداد کسی کے پاس  موجود نہیں  ہے، کیونکہ اکثر یہ کام ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے رہائشی فلیٹس میں بھی کیا جارہا ہے۔ دوران تعلیم اکثر نوجوان پڑھائی کے اخراجات کو اٹھانے کے لیے ان کال سینٹر میں پارٹ ٹائم ملازمت اختیار کرتے  ہیں، جن کو سروس دینے کے لیے بطور سیلیز مین  ہائر کیا جاتا ہے، قانونی کال سینٹرز، جو واقعی اپنا کام ایمانداری  سے کر رہے ہیں، وہ ملک میں ترسیلات ذر کا بڑا ذریعہ ہیں۔

گذشتہ دنوں کراچی میں ایک نجی بینک کی صارف کے ساتھ کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا، جنہیں ایک نامعلوم نمبر سے کال کی گئی اور ان کو کہا گیا کہ یہ کال آپ کو بینک سے موصول ہوئی ہے اور اکاؤنٹ میں کچھ تکنیکی تبدیلی کے باعث آپ سے معلومات درکار ہے۔

‘پاکستان میٹرز’ کو ایک صارف نے بتایا ہے کہ انہیں بینک اکاؤنٹ نمبر اور بینک برانچ تک بالکل ٹھیک بتائی گئی  تھیں، جس کے بعد موبائل پر موصول ہونے والا کوڈ  مانگا گیا، جیسے ہی انہوں نے وہ کوڈ نمبر اس فراڈ کرنے والے شخص کو بتایا اگلے ہی لمحے تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے کی رقم ان کے اکاؤنٹ سے کسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کا میسج موصول ہوا اور رقم جس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی گئی، وہ اکاؤنٹ نمبر بھی نامکمل تھا، تاکہ فراڈ کرنے والوں کا پتہ نہ لگایا جاسکے۔

بینک انتظامیہ نے اس واقعے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا۔ (فوٹو: گوگل)

واقعے کے فوری بعد صارف نے متعلقہ بینک سے رابطہ کیا، جس کے جواب میں بینک انتظامیہ نے اس واقعے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا۔ صارف نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بات وہ کافی حد تک سہم گئی ہیں اور اب وہ آن لائن بیکنگ اور کسی بھی کیش والٹ کا استعمال نہیں کر رہی، جس کی بنیادی وجہ ڈیٹا کا غیر محفوظ ہونا ہے۔

ڈبہ اسکیم کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو پاتی؟

عبید شاہ ایک صحافی ہیں جو کہ گذشتہ کئی برس سے کرائم رپورٹنگ کر رہے ہیں، انہوں نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا ہے کہ یہ جعلساز زیادہ تر بین الاقوامی نیٹ ورکس سے جڑے ہوتے ہیں، جنہیں ٹریس کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، مقامی سطح پر بھی کئی وجوہات کی بنا پر کارروائی میں تاخیر ہوتی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اکثر وہ جدید ٹولز اور مہارتیں نہیں ہوتیں، جو ایسے سائبر کرائمز کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ اگر جعلساز کسی دوسرے ملک میں بیٹھے ہیں، تو ان کے خلاف کارروائی کے لیے بین الاقوامی تعاون درکار ہوتا ہے، جو ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔

بعض صورتوں میں مقامی بینک ملازمین، ٹیلی کام ورکرز یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد خود ان گروہوں سے ملی بھگت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے کارروائی میں رکاوٹ آتی ہے۔

ڈبہ اسکیم کا شکار ہونے والے بعض افراد کی رقم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے نتیجے میں بازیاب بھی ہوئی۔ (فوٹو: گوگل)

عبید شاہ نے مزید بتایا ہے کہ ڈبہ اسکیم کا شکار ہونے والے بعض افراد کی رقم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے نتیجے میں بازیاب بھی ہوئی، مگر یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اگر کسی متاثرہ شخص کی شکایت فوراً درج ہو، بینک اور حکام فوری کارروائی کریں، تو ٹرانزیکشن کو ریورس کیا جا سکتا ہے یا جعلسازوں کے اکاؤنٹس کو منجمد کر کے رقم واپس حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، زیادہ تر کیسز میں جعلساز فوری طور پر رقم دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیتے ہیں، جس سے بازیابی مشکل ہو جاتی ہے۔

ڈبہ اسکیم، جعلسازوں سے بچاؤ کس طرح ممکن ہے؟

سائبر سکیورٹی میں 20 سال کا تجربہ رکھنے والے سید فراز جاوید نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا ہے کہ بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات ہیک ہونے کے امکانات اکثر مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کرنے سے بڑھ جاتے ہیں، عام طور پر لوگ آن لائن شاپنگ کے لیے اپنے ڈیبٹ کارڈ کو ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیتے ییں، جس کے نیتجے میں اس ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیچ کے ہیک ہونے کی صورت میں وہ ساری بینگ کی معلوت ہیکرز کو باآسانی مل جاتی ہے، لٰہذا عوام کو ہمیشہ ایسے کیش والٹ ان سائٹس ہر اپلوڈ کرنے چاہئے، جس میں رقم کم ہو۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ بینک اور مالیاتی اداروں کو مضبوط سائبر سیکورٹی کی ایڈوانس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اکثر ایسے معاملات نامناسب سائبر سیکیورٹی کی وجہ سے ہے رونما ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، کسی بھی نامعلوم نمبر یا کال سینٹر سے ملنے والی کال پر بینکنگ تفصیلات فراہم نہ کریں۔

کسی بھی لنک پر کلک کرنے یا نامعلوم ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں۔ بینک اکاؤنٹ پر ٹو فیگر اٹھینٹفیکیشن کو فعال کریں، باضابطہ ذرائع سے تصدیق کیے بغیر کسی بھی انعام یا آفر پر یقین نہ کریں۔ اگر کوئی فراڈ ہو جائے، تو فوری طور پر بینک اور سائبر کرائم یونٹ کو رپورٹ کریں، تاکہ ممکنہ بازیابی کا عمل شروع کیا جا سکے۔

باضابطہ ذرائع سے تصدیق کیے بغیر کسی بھی انعام یا آفر پر یقین نہ کریں۔ (فوٹو: گوگل)

ایف آئی اے کا سائبر سیکورٹی ونگ موجود ہے، جس میں ایسے جعلسازی کا شکار ہونے والے شہری اپنی شکایت آن لائن درج کرواسکتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ ادارے کے ریکارڈ میں یہ جعلسازی کا واقعہ آجائے گا، جب کہ کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں آپ کی رقم بازیاب ہونے کی صورت میں آپ کو ہی موصول ہوگی۔

ڈبہ اسکیم میں ملوث جعلساز ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے یہ کارروائیاں سر انجام دیتے ہیں، ان کے پاس جدید تکنیکی حربے اور سوشل انجینئرنگ کے بڑے وسائل موجود ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اکثر ان کے خلاف کارروائی کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں، جب کہ بعض وجوہات کی بنا پر وہ بالکل بےبس دیکھائی دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عوام کو ڈیجیٹل دور میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ کسی بھی قسم کی جعلسازی سے محفوط رہ سکیں۔

دانیال صدیقی

دانیال صدیقی

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس