لاہور ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے جس میں کہا گیا کہ ایک حقیقی والد پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچے کی پرورش کرے چاہے وہ بچہ غیر ازدواجی تعلق یا جنسی زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو۔
یہ فیصلہ جسٹس احمد ندیم ارشد کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اور اس میں اہم قانونی اصولوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
مقدمے کی تفصیل کے مطابق، ایک خاتون نے اپنی چار سالہ بیٹی کی پرورش کے لیے مرد کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس پر وہ الزام عائد کرتی تھی کہ درخواست گزار نے خاتون کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں خاتون حاملہ ہو گئی اور 27 مئی 2020 کو ایک بچی کی پیدائش ہوئی۔
اس بچی کے بارے میں خاتون کا دعویٰ تھا کہ وہ درخواست گزار کی ہی حیاتیاتی بیٹی ہے۔
یہ واقعہ مارچ 2020 میں پیش آیا تھا اور اس واقعے کے خلاف 4 مارچ 2020 کو دفعہ 376 اور 109 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
خاتون نے عدالت میں کہا کہ بچی کا اصل والد اس مرد کو قرار دیا جائے، اور اس کی پرورش کے تمام اخراجات کا بندوبست اس سے کرایا جائے۔
تاہم، مدعا علیہ یعنی مرد نے اس دعوے کو چیلنج کیا اور عدالت میں یہ کہا کہ وہ اس بچی کا حقیقی والد نہیں ہے اور نہ ہی اس کی پرورش کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’عدت پر کوئی مقدمہ نہیں بن سکتا‘مولانا طارق جمیل نے نئی بحث چھیڑ دی
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ‘احمد ندیم ارشد’ نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ “یہ کوئی معمولی کیس نہیں ہے بلکہ اس میں بہت اہم قانونی نکات پوشیدہ ہیں۔”
انہوں نے اپنے تفصیلی حکم میں کہا کہ “ایک حقیقی والد پر اپنے بچے کی پرورش کا فرض ہے، چاہے وہ بچہ کسی غیر ازدواجی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “جب ولدیت کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو ضروری ہے کہ عدالت پہلے یہ ثابت کرے کہ بچہ واقعتاً اس شخص کا بائیولیجیکل بچہ ہے۔”
جسٹس ارشد نے اس بات کی وضاحت کی کہ قانونی طور پر بچے کا والد وہی شخص ہوتا ہے جو اس کا حقیقی والد ہو اور اس پر اس کے بچے کی پرورش کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اس فیصلہ میں ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ “معتبر شواہد کے بغیر کسی بھی بچے کی پرورش کے لئے خرچہ معین کرنا درست نہیں ہے۔”
ضرور پڑھیں: بلوچستان و کے پی کی صورتحال داخلی تحفظ و حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان ہے، حافظ نعیم الرحمان
جسٹس ارشد نے کہا کہ “یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے کیونکہ عدالت نے بچی کی اصل ولدیت کے بارے میں مکمل تحقیقات کیے بغیر اس کے خرچ کا تعین کر دیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “اس طرح کے مقدمات میں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے بچے کی ولدیت کی حقیقت کو ثابت کیا جائے، پھر اس کے بعد ہی اس کے خرچ کا تعین کیا جائے۔”
عدالت نے اس فیصلے کے ذریعے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کا عمل اسی صورت میں مکمل ہوتا ہے جب تمام قانونی اصولوں کا احترام کیا جائے۔
یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے نہ صرف پاکستان کے قانونی نظام میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے بلکہ اس نے جنسی زیادتی اور غیر ازدواجی تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کے حقوق اور ان کی پرورش کے حوالے سے ایک نئے قانونی باب کا آغاز کیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ والد پر اپنے بچے کی پرورش کی ذمہ داری ہے اور وہ اس سے بچ نہیں سکتا۔
فیصلے کے نتیجے میں لاہور ہائی کورٹ نے مقدمہ واپس فیملی کورٹ کو بھیج دیا اور حکم دیا کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ آیا بچی واقعی اس مرد کی ہی اولاد ہے یا نہیں۔
اگر یہ ثابت ہوتا ہے تو عدالت پھر اس شخص کو بچی کی پرورش کے اخراجات کے حوالے سے فیصلے کرنے کی ہدایت دے گی۔
یہ فیصلہ یقینی طور پر خاندان کے قوانین میں ایک اہم فیصلہ ثابت ہوگا اور اس سے مستقبل میں ایسے مقدمات میں قانونی رہنمائی حاصل کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ’انڈیا کا خود کو مظلوم ظاہر کرنا حقیقت کو چھپا نہیں سکتا‘ پاکستان کا مودی کو دوٹوک جواب