پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے قومی قیادت کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد کیا،اجلاس میں سیاسی و فوجی قیادت کا خوارج اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ اہم اجلاس بلوچستان کے ضلع بولان میں جعفر ایکسپریس، نوشکی میں سکیورٹی فورسز کے قافلے اور خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں جنڈولہ کے مقام پر ایف سی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملوں جیسے واقعات کے تناظر میں منعقد کیا گیا۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان حالیہ دنوں میں شدت پسندی کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔ گلوبل ٹیررزم انڈیکس 2025 کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان میں ہونے والے 96 فیصد سے زائد شدت پسند حملے اور اموات انہی دو صوبوں میں ہوئی ہیں۔
اجلاس میں علامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیاکہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ ممکن بنانے کے لیے مربوط اور منظم حکمت عملی اپنانا ہوگی، دہشت گردی کی حمایت کرنے والےکسی بھی گروہ کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائےگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا، اعلامیےکے مطابق کمیٹی نےکہا کہ پاکستانی اداروں کو قانون نافذ کرنے اور قومی سلامتی کے معاملات میں مکمل آزادی ہونی چاہیے۔کمیٹی نے اس بات پرزور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمےکے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی مزید بہتربنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔
اعلامیے کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہےکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی ادارے، فرد یا گروہ کو کمزوری نہیں دکھانی چاہیے، ایک مضبوط اور مربوط حکمت عملی کے تحت قومی سلامتی کو یقینی بنایا جانا چاہیے،کمیٹی نے حزب اختلاف کے بعض ارکان کی عدم شرکت پر افسوس کااظہار کیا اور کہا کہ مشاورت کا عمل جاری رہےگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ملک کے لیے ناسور بن گئی ہے، ہم یہاں دہشت گردی کے مسئلے کا حل نکالیں گے، ہم آخری دہشت گرد کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرکے قلع قمع کریں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کریں گے، شہدا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتے، انہوں نے ملک کے لیے جانیں قربان کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
شہباز شریف نے قومی نوعیت کے اہم اجلاس میں حزب اختلاف کی عدم شرکت کو افسوسناک اور غیر سنجیدہ طرز عمل قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حزب اختلاف کی اجلاس میں عدم شرکت قومی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کے مترادف ہے جو قوم کی مقدس امانت ہیں، دہشت گردی کے خلاف سب کو متحدہ ہو کر آگے بڑھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر 2014 میں سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد میرے قائد میاں محمد نواز شریف نے پوری قوم کو متحد کیا اور پوری قوم نے مل کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیکیورٹی ایجنسیز، سیاستدان، پاکستانی شہریوں نے لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی ،جبکہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا، قربانیوں کی بدولت پاکستان کا امن بحال ہوا، معیشت سنھبلی اور ملک کی رونقیں بحال ہوئیں۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو ملکی صورتحال پر 50 منٹ تک تفصیلی بریفنگ دی، آرمی چیف نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال سے آگاہ کیا، آرمی چیف کی بریفنگ کے بعد 15 منٹ کے لیے نماز کا وقفہ کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میں سکیورٹی مسائل موجود ہیں، پولیس فورس اور دیگر سکیورٹی فورسز کا مورال بڑھا رہے ہیں، پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو مکمل وسائل فراہم نہیں کیےگئے، ہم بارہا وفاق سے یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں، افواج پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، فوج نے خیبرپختونخوا میں امن کے لیے بہت کام کیا ہے، ہمیں آپس کی بداعتمادی کو ختم کرنا ہوگا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پیپلزپارٹی پاکستان سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہرطرح کی مدد کو تیار ہے، یہ اہم قومی مسئلہ ہے جس میں اگر مگر کی گنجائش نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، جو آگ پاکستان میں لگی ہے اردگرد رہنے والے یہ مت سمجھیں کہ ان تک نہیں پہنچےگی، دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے والوں کا بھی پتا لگانا ہوگا، افغانستان میں دہشت گردوں کا معاملہ بھرپورانداز میں سفارتی سطح پر اٹھانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھی افغان حکومت کے کردار سے آگاہ کرنا ہوگا،اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مؤثر بنانا ہوگا، بیرونی دنیا بھی یہ سب معاملات دیکھے، دنیا خود کو اس خطے سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتی۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں قومی سلامتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر پی ٹی آئی پر کڑی تنقیدکی،خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج کے دن بھی اپوزیشن نے ریاست کے بجائے ایک شخص کو ترجیح دی، عوام کو ان کا اصل چہرہ دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سابق دور حکومت میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا، پی ٹی آئی کے دور میں پھر افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر یہاں بسایا گیا، ان دہشت گردوں کے سبب آج ایک بار پھر پورے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو یہاں نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی، مجھ سے مشورہ کرتے تو ان کو اجلاس میں آنےکا ضرور کہتا،1988سے اس ایوان کا حصہ رہا ہوں، آئین سے وفاداری کا حلف اٹھاتا رہا ہوں۔
مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ میں استاد کو شہیدکہوں گا لیکن مارنے والےکو مجاہد نہیں کہہ سکتا، پہلے بھی مختلف مکتبہ فکرکے لوگوں نے فتویٰ دیا ہے، ہم نے بھی کہا ہےکہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا دہشت گرد ہے، دہشت گردی کا کوئی مذہب اور فرقہ نہیں، سیاسی قیادت اور قوم کو کسی مخمصے کا شکار ہوئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا،
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس مسئلہ پر اکھٹا ہونا ہوگا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے آرمی چیف سید عاصم منیر سے میٹنگ کے آخر میں دعا کی درخواست کی، آرمی چیف نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں کامیابی کے لیے دعا کروائی۔
واضح رہے کہ اجلاس میں پی ٹی آئی نے شرکت نہیں کی،پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ اجلاس میں شرکت کے لیے عمران خان کو پے رول پر رہا کریں۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما عامر ڈوگر نے گذشتہ روز ہی خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے چودہ افراد کے نام بھجوائے تھے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے منگل کی صبح پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اجلاس سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔