آج کل، مفت آن لائن فائل کنورٹرز ایک عام سہولت بن چکے ہیں جن کا استعمال لوگ مختلف فائل فارمیٹس جیسے M4A سے MP3 تبدیل کرنے یا .doc کو .pdf میں تبدیل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔
تاہم، اب ایف بی آئی نے ان مفید نظر آنے والے ٹولز کے بارے میں ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ کنورٹرز آپ کے کمپیوٹر کو وائرس اور مالویئر سے متاثر کر سکتے ہیں۔
ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق مجرم ان کنورٹرز کا فائدہ اٹھا کر ان کے ذریعے کمپیوٹرز میں میلویئر منتقل کر رہے ہیں۔
ان ٹولز کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صارفین فائل فارمیٹس میں تبدیلی کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ مالویئر بھی آپ کے کمپیوٹر میں داخل ہوتا ہے۔
اس مالویئر کا مقصد حساس ذاتی معلومات چرانا ہے جیسے آپ کے نام، سوشل سیکیورٹی نمبر، بینکنگ کی تفصیلات، اور کرپٹو کرنسی کی معلومات شامل ہیں۔
یہ سب کچھ صارف کی اجازت کے بغیر ہوتا ہے جس سے وہ شناختی چوری اور مالی دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ایف بی آئی کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ مفت فائل کنورٹرز آپ کے کمپیوٹر کو رینسم ویئر سے متاثر کر سکتے ہیں۔
رینسم ویئر ایک ایسا مالویئر ہوتا ہے جو آپ کی تمام ذاتی معلومات کو لاک کر دیتا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے تاوان طلب کرتا ہے۔
اس کے نتیجے میں صارفین کو نہ صرف اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت کا خطرہ ہوتا ہے بلکہ مالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔
اگرچہ ایف بی آئی نے ان مخصوص کنورٹرز کا نام نہیں لیا جو کمپیوٹرز کو متاثر کر رہے ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ صرف معتبر اور قابل اعتماد ذرائع سے ہی فائل کنورٹ کرنے کے ٹولز استعمال کیے جائیں۔
اس کے علاوہ صارفین کو چاہیے کہ وہ مفت اور مشتبہ ٹولز سے گریز کریں اور اگر صارفین فائل کنورٹ کرنے کے عادی ہیں تو کسی تصدیق شدہ اور معروف کنورٹر میں سرمایہ کاری کرنا بہتر ہوگا۔
ایف بی آئی ڈینور کے اسپیشل ایجنٹ مارک مچالیک نے کہا کہ
“ان مجرموں کو شکست دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ان کے جال میں نہ پھنسیں۔ اگر آپ یا آپ کے جاننے والے اس اسکیم کا شکار ہو چکے ہیں تو ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ رپورٹ درج کرائیں اور اپنے اثاثوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔”
یہ خبر نہ صرف ایک انتباہ ہے بلکہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ہونے والے فراڈ سے بچنے کے لیے ہم سب کو محتاط رہنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل کیش: انڈیا کی ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ بڑھتا سائبر فراڈ، معیشت کو کتنا بڑا خطرہ؟