اپریل 5, 2025 1:08 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

چینی کی بڑھتی قیمتیں: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے تجاویز دے دیں

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

پاکستان میں چینی کی قیمت رمضان کے دوران 175 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ 200 روپے تک بڑھ سکتی ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ شوگر ملز کے مبینہ کارٹیل کو قرار دیا جا رہا ہے، جس پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے نظر رکھنی شروع کر دی ہے۔

حکومت نے پہلے شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اس فیصلے کے ممکنہ اثرات پر غور نہیں کیا گیا۔ برآمدات کے بعد جب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قلت پیدا ہونے لگی، تو حکومت نے خام چینی درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس فیصلے سے مقامی ڈیلرز کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ عوام کو مہنگی چینی خریدنا پڑ سکتی ہے۔

کمپیٹیشن کمیشن نے چینی کی قیمتوں میں اضافے، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ 2020 میں کی گئی ایک انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن قیمتوں کے تعین اور چینی کی سپلائی پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ اسی بنیاد پر 2021 میں کمیشن نے شوگر ملوں پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا، تاہم ملرز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب تک جرمانہ وصول نہیں کیا جا سکا۔

کمپیٹیشن کمیشن نے چینی کے کاروبار میں شفافیت لانے اور زیادہ مسابقت پیدا کرنے کے لیے مختلف تجاویز دی ہیں۔ ان میں چینی کی قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق طے کرنے دینا، گنے کی امدادی قیمت ختم کرنا اور شوگر ملوں کے قیام پر عائد پابندیاں ہٹانا شامل ہیں۔

اس وقت چینی کے مصنوعی بحران اور شوگر کارٹیل کے خلاف 127 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ ان میں سے 24 مقدمات سپریم کورٹ، 25 لاہور ہائی کورٹ، 6 سندھ ہائی کورٹ اور 72 مسابقتی اپیلٹ ٹریبونل میں ہیں۔ حکومت نے ان مقدمات کے جلد حل کے لیے اپیلٹ ٹریبونل میں نئے چیئرمین اور ممبران تعینات کر دیے ہیں۔

اگر چینی کی قیمتوں پر قابو نہ پایا گیا اور کارٹیل کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی، تو عوام کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت اور مسابقتی کمیشن اس مسئلے پر توجہ دے رہے ہیں، لیکن اس کا حل سخت پالیسیوں پر عمل درآمد سے ممکن ہوگا۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس