اپریل 5, 2025 1:09 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

خوشی کا تعلق بیرونی عوامل سے نہیں بلکہ ہمارے ذہن سے ہے

زین اختر
زین اختر

اتوار کا دن ہے اور صبح کے وقت ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہے۔ آپ چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے موسم سے مکمل لطف اٹھا رہے ہیں۔ ۔ آپ یو ں محسوس کرتے ہیں جیسے زندگی مزید خوبصورت ہوگئی ہو۔

اچانک آپ کے موبائل پر ایک نوٹیفیکیشن آتا ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے یا آپ کا تمام بنک بیلنس چوری ہوگیا ہے۔آپ اسی لمحے افسردہ ہوجاتے ہیں اور وہ خوشی رخصت ہو جاتی ہے۔

موسم تو اب بھی خوبصورت تھا لیکن آپ کے دل کا موسم غمگین ہوگیا ہے۔ آج خوشی کا عالمی دن ہے اور آئیے جانتے ہیں  کہ آخر ایسی کیا چیزیں ہیں جو ہمیں خوش  یا غم زدہ رکھتی ہیں۔
خوشی ایک ایسا احساس ہے جسے ہر انسان حاصل کرنا چاہتا ہے اور ساری زندگی اسی کے تعاقب کرتے ہوئے گزار دیتا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے پاس دولت ہو تو آپ زیادہ خوش رہ سکتے ہیں۔

لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ خوش رہنے کے لیے کسی بڑی کامیابی یا دولت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی عادتیں اور مثبت رویہ ہماری خوشی میں حیرت انگیز اضافہ کر سکتے ہیں۔

خوشی کا تعلق صرف بیرونی عوامل سے نہیں بلکہ ہماری ذہنی اور جسمانی صحت سے بھی جڑا ہوتا ہے۔

سائنس کے مطابق، خوشی ،محسوس کرنے کا ایک حیاتیاتی عمل ہوتا ہے۔ ہمارے دماغ میں “سیروٹونن”، “ڈوپامائن”، “آکسیٹوسن” اور “اینڈورفنز” جیسے نیورو ٹرانسمیٹرز خارج ہوتے ہیں جو خوشی اور اطمینان کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ جب ہم کوئی مثبت کام کرتے ہیں جیسے ورزش، ہنسی مذاق، دوسروں کی مدد، یا پسندیدہ سرگرمیاں، تو ہمارا دماغ ان ہارموں کو خارج کرتا ہے، جس سے ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم روزمرہ کی زندگی میں کس طرح آسانی سے خوش رہ سکتے ہیں؟ اس کے کئی طریقے ہیں جو نہ صرف ہمیں ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں بلکہ ہماری صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

سب سے پہلے، شکر گزاری خوش رہنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جب ہم اپنی زندگی میں موجود مثبت چیزوں پر توجہ دیتے ہیں اور ان کا شکر ادا کرتے ہیں تو ہمارا دماغ مثبت سوچنا شروع کر دیتا ہے، جس سے ہماری خوشی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق روزانہ شکر گزاری لکھنے والے افراد زیادہ خوش اور مطمئن رہتے ہیں۔

دوسرا اہم طریقہ جسمانی سرگرمی ہے۔ ورزش کرنا، چہل قدمی، یا کسی بھی قسم کی فزیکل ایکٹیویٹی دماغ میں اینڈورفنز خارج کرتی ہے، جسے قدرتی “خوشی کے کیمیکل” کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ورزش کے بعد ہمیں ذہنی سکون اور تازگی محسوس ہوتی ہے۔

دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا بھی خوشی کو بڑھاتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق، وہ لوگ جو مضبوط سماجی تعلقات رکھتے ہیں، وہ زیادہ خوش اور مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی خوشیاں اور مسائل شیئر کرنے سے ہم جذباتی طور پر مضبوط محسوس کرتے ہیں۔

مسکراہٹ اور قہقہہ بھی خوشی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ جب ہم ہنستے ہیں تو ہمارے جسم میں اینڈورفنز خارج ہوتے ہیں، جو ہمیں خوشی کا احساس دلاتے ہیں۔ حتیٰ کہ مصنوعی مسکراہٹ بھی ہمارے موڈ کو بہتر کر سکتی ہے۔

مدد کرنا اور دوسروں کے لیے کچھ اچھا کرنا ہماری خوشی میں اضافہ کرتا ہے۔ جب ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں یا کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں، تو ہمیں ایک اندرونی خوشی اور سکون محسوس ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، وہ لوگ جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں، وہ زیادہ خوش اور صحت مند رہتے ہیں۔

اچھی نیند بھی خوشی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ نیند کی کمی نہ صرف ہمارے موڈ کو متاثر کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ اور بے چینی کو بھی بڑھاتی ہے۔ روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند لینے سے دماغ تروتازہ رہتا ہے اور ہم زیادہ خوش محسوس کرتے ہیں۔

روزمرہ کی زندگی میں خوش رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم چھوٹی خوشیوں پر توجہ دیں، مثبت سوچ اپنائیں، اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ خوشی کسی بڑی کامیابی کا انتظار کرنے میں نہیں بلکہ ان لمحات میں ہے جو ہم ابھی جی رہے ہیں۔

 

زین اختر

زین اختر

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس