ونڈ فال ٹیکس کی مد میں بینکوں سے وصولیوں کا عمل تیزی سے جاری ہے، چار ہفتوں میں 31 ارب روپے سے زائد قومی خزانے میں آ گئے۔
ذرائع کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے بھی پنجاب میں تمام رجسٹرڈ بینکوں کی درخواستوں پر حکم امتناع ختم کر دیا، عدالتی فیصلے کے بعد پنجاب کے بینکوں نے آج مزید 8.4 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرا دیے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ونڈ فال ٹیکس کیسز کی بھرپور پیروی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں۔ اس سلسلے میں وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کو مقدمات میں فوری اقدامات کی ہدایت دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ڈالا کلچر پر سختی کی ہے اور کریں گے، وزیرِ داخلہ سندھ
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اس طرح کا اقدام کیا گیا، جس کے نتیجے میں قومی خزانے میں اربوں روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ تین ہفتے قبل سندھ ہائیکورٹ کے سٹے آرڈر کے خاتمے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر بینکوں نے 23 ارب روپے ایف بی آر میں جمع کرائے تھے۔
واضح رہے کہ 2023 میں بینکوں پر انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 99 ڈی کے تحت ونڈ فال ٹیکس عائد کیا گیا تھا، جو غیر معمولی اور اضافی منافع پر لاگو کیا گیا تھا۔