وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے اور آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا ماحولیاتی نظام دینے کے لیے پرعزم ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ درخت ضرور لگائیں، چاہے اس کے سائے میں بیٹھنے کی توقع ہو نہ ہو۔
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے جنگلات کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ بچے اپنے والدین اور اساتذہ کرام کے نام پر درخت لگائیں۔ جنگلات کا وجود ماحول، معیشت اور شہریوں کے لیے لائف لائن ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے شجرکاری ناگزیر ہیں، درخت لگائیں اور سموگ کے اندھیرے مٹائیں۔
مریم نوازشریف نے کہا کہ عالمی یوم جنگلا ت پر صوبے بھر میں 15 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ موسم بہار شجرکاری مہم کے دوران مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ پودے لگانے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ ”پلانٹ فار پاکستان“ مہم کے تحت 44 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ ”گرین پاکستان“ پروگرام کے تحت 34 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر کے زرعی جنگلات میں 14 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے۔ ہیلتھ، ایجوکیشن اور دیگر اداروں کو شجرکاری کے لیے 55 لاکھ پودے فراہم کیے گئے ہیں۔ پہلی مرتبہ بے آباد سرکاری اراضی پر بھی درخت لگائے جائیں گے۔ راجن پور، مظفرگڑھ اور سرگودھا میں دریائے سندھ سے متصل 3700 ایکڑ پر شجرکاری کی جائے گی۔
ان کے علاوہ غازی گھاٹ اور مظفر گڑھ میں 1500 ایکڑ رقبے پر شجرکاری ہوگی۔ شیخوپورہ اور لاہور راوی کنارے پر 444 ایکڑ رقبے پر درخت لگائے جائیں گے۔ گجرات میں دریائے چناب سے متصل علاقوں میں بھی شجرکاری ہوگی۔ گوجرانوالہ، چھانگا مانگا، چیچہ وطنی، اٹک، جھنگ اور ڈی جی خان میں خالی اراضی پر شجرکاری کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں 161 سال سے قائم محکمہ جنگلات کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لیس کیا جارہا ہے۔ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ میں جی آئی ایس ریموٹ سینسنگ، ہائی ریزولوشن میپنگ اور ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی ہے۔ سیٹلائٹ اور ڈورن ٹیکنالوجی سے جنگلات میں وقوع پذیر تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی۔ مری اور جھانگا مانگا کے جنگلات کی ہائی ریزولوشن اورتھری ڈی میپنگ مکمل کر لی گئی ہے۔
مریم نوازشریف نے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی سے جنگلات میں تجاوزات کی مانیٹرنگ اور فارسٹ ہیلتھ مانیٹرنگ ممکن ہوگی۔ جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے تھرمل سینسرکی مدد لی جائے گی۔ جنگلات کی حدود کے تعین کے لیے کمپارٹمنٹ لیول فارسٹ میپنگ کی جارہی ہے۔ فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے فیلڈ سٹاف کی مانیٹرنگ اور انسپیکشن کے لیے موبائل ایپ لانچ کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگلا ت میں لگنے والی آگ کے بروقت سدباب اور ڈی ٹیکشن انٹیلی جنس سسٹم کوجلد فعال کر دیا جائے گا۔ جنگلات سے متعلق ہنگامی صورتحال کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1084 بھی قائم کر دی گئی ہے۔