اپریل 3, 2025 12:50 شام

English / Urdu

Follw Us on:

ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلات کا تحفظ : حکومت پنجاب کا سرسبز مستقبل کی جانب سفر

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلات کا تحفظ : حکومت پنجاب کا سرسبز مستقبل کی جانب سفر

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کے تحت محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے
عالمی یوم جنگلات ہرسال 21مارچ کو منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 21 دسمبر 2012 کو ایک قرارداد منظور ہوئی۔جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہرسال 21 مارچ کو انٹرنیشنل فاریسٹ ڈے منایا جائے گا۔ قرارداد کے ذریعے تمام رکن ممالک کو پابند کیا گیا کہ وہ جنگلات اور خالی میدانوں میں پودے لگانے کی منظم مہم چلائیں ۔ اس دن کو منانے کا مقصد جنگلات کی اہمیت اجاگر کرنا اور ان کی حفاظت کے لیے عالمی سطح عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے ۔

رواں سال یہ دن خوراک کی یقینی فراہمی کیلئے جنگلات کے اہم کردار کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 5ارب سے زائد افراد خوراک، ادویات اور روزگار کے لیے جنگلات اوراس کی مصنوعات استعمال کررہےہیں۔۔لیکن ہر سال 70 ملین ہیکٹر جنگلات جل کر راکھ جبکہ 10 ملین ہیکٹر جنگلات کو غیر قانونی کٹاو کا سامنا ہے۔

محکمہ جنگلات پنجاب کی شجر کاری مہم کو اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن
(UNFAO) نے باضابطہ تسلیم کر لیا،  پنجاب میں جنگلات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ UNFAO نے جنگلات کے عالمی دن کی مہم میں محکمہ جنگلات پنجاب کو آفیشل لوگو اور بینرز استعمال کرنے کی اجازت دی، جبکہ اپنی ویب سائٹ پر 14 مقامات پر جاری شجر کاری مہم کی تفصیلات بھی شائع کر دی ہیں۔ محکمہ جنگلات پنجاب، پاکستان کے قدرتی وسائل کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور عوام سے اپیل کی کہ جنگلات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی بقا کے لیے اپنی آواز بلند کریں

محکمہ جنگلات پنجاب 1.6 ملین ایکڑ پر پھیلے جنگلات کی نگرانی کرتاآ رہا ہے ۔1864سے محکمہ روایتی طریقوں سے سرگرمیاں سرانجام دے رہا تھا جس میں کئی سالوں تک کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ تاہم محکمے نے جی آئی ایس پر مبنی ٹیکنالوجی یعنی ریموٹ سینسنگ ، لائیڈار اورہائی ریزولوشن میپنگ کی مددسے عملی اقدامات اٹھائے۔ جن کی مدد سے جنگلات کی حفاظت کیلئے شب و روز کام ہورہا ہے

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کے تحت محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جو انقلاب کی سی حیثیت رکھتی ہے۔

سیٹلائیٹ اور ڈرون ٹیکنالوجی سے فاریسٹ چینج ڈیٹیکشن یعنی فاریسٹ کور میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ٹیکنالوجی  کو بروئے کارلاتے ہوئےبطور پائلٹ اسٹڈی  مری کے پچاس ہزار ایکڑ جنگلات کی سات سینٹی میٹر ریزولوشن پرڈرون میپنگ اور تھری ڈی ماڈلنگ سمیت دنیا کے سب سے بڑے انسانی ہاتھ سےلگائے گئے جنگل چھانگا مانگا کی ہائی ریزولوشن تھری ڈی میپنگ مکمل کرلی گئی ہے۔ جس سے چھانگا مانگا کی ریگولر مانیٹرنگ کامیابی سے جاری ہے۔ڈرون ٹیکنالوجی ناجائزتجاوزات کی نشاندہی اور نیچرل ریسورس مینجمنٹ کیلئے بھی استعمال ہورہی ہے۔ پائلٹ اسٹدی کی کامیابی کے بعد ؂ اسکا دائرہ کار پنجاب بھرکے جنگلات تک پھیلایا جا رہا ہے تاکہ  قومی قیمتی ورثے کی حفاظت اور درختوں کی ہیلتھ مانیٹرنگ پرنظر رکھی جاسکے ۔ جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کیلئے ملٹی سپیکٹرل ، ہائیپر سپیکٹرل اور تھرمل سینسرکی مدد سےدور دراز علاقوں سے ایسی اہم معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں جنہیں عام انسانی آنکھ سے دیکھنا مشکل ہے۔

محکمہ جنگلات نے ایک صدی پرانے ریکارڈ کی ڈیجیٹل فاریسٹ انوینٹری بنانے کی جانب بھی قدم بڑھایا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے ہائی ریزولوشن امیجز کے ذریعے کمپارٹمنٹ لیول فاریسٹ میپنگ کی جارہی ہے۔ جس سے جنگلات کی حدود کا تعین کیاجارہا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کی مددسے ڈینسٹی میئرمنٹ کی جارہی ہے اور درختوں کی اسپیشز کا ڈیجیٹل ریکارڈ اکٹھا کیا جارہاہے

انسپیکشن ریجیم سسٹم کےتحت ایک موبائل ایپلیکیشن لانچ کی گئی ہےجس سے روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ میں ڈیوٹی پر موجود سٹاف کی انسپیکشن ہورہی ہے۔اس اپلیکشین کو ہرآفیسر کی پرفارمنس ایویلوئیشن رپورٹ کے ساتھ لنک کردیا گیا ہے ۔ محکمہ جنگلات جلد ہی ایک ڈیجیٹل سینٹرلائزڈ سسٹم لانچ کرنے جارہا ہے ۔ جس کے ذریعے ڈویلپمنٹ اور نان ڈویلپمنٹ بجٹ کی یوٹیلائزیشن اور مانیٹرنگ ہوگی

دنیا بھر میں کاربن کریڈٹ اور کاربن مارکیٹنگ پرانویسٹمنٹ جاری ہےجس کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لائیڈار ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کے ذریعےدرختوں کا تنا کاٹے بغیربائیو ماس ایسٹی میشن  کی جا رہی ہے ۔اس سلسلے میں محکمہ جنگلات نے چھانگا مانگا جنگل کی پائلٹ اسٹڈی مکمل کرلی ہے جس کےنتائج اطمینان بخش ہیں

ہرسال پنجاب کے جنگلات میں لگنے والی آگ، جنگلات میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی ، جنگلات کی زمین پر غیر قانونی قبضہ جنگلات اور جنگلی حیات کے مسکن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

راولپنڈی اور مری میں جنگلات کی آگ تباہی کا سبب ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ایک ارلی وارننگ اینڈ ڈی ٹیکشن سسٹم پر کام جاری ہے اور جلد ہی اس کو لانچ کیا جائے گا ۔اس وارننگ سسٹم سےجنگلات کی آگ کی بروقت نشاندہی ہوسکے گی ۔ وائلڈ فائر ٹریک کرنے، آگ پر بروقت قابو پانے اور اس کا پھیلاؤروکنے میں مدد ملے گی ۔

سینٹلائزڈ کنٹرول روم وائلڈ فائر کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ اور ارلی ڈیٹیکشن وارننگ الرٹ جاری کرے گا ۔جس سے جنگلات میں لگنے والی آگ کی شرح میں کمی لائی جائے گی۔

جنگلات سے متعلقہ  کسی بھی ہنگامی اور ناگہانی صورتحال سے بروقت نمٹنے کیلئے محکمہ جنگلات پنجاب نے ہیلپ لائن نمبر 1084 کا آغاز کردیا ہے ۔ ہیلپ لائن  پر غیرقانونی تجاوزات ،قبضےاور درختوں کی کٹائی کی نشاندہی یا کسی بھی شکایت کی صورت میں بروقت اطلاع دی جاسکتی ہے ۔ایمرجنسی کالزموصول ہونے پر محکمہ جنگلات شکایت پر فوری کارروائی کرے گا

حکومت پنجاب کا یقین ہے کہ  جنگلات سموگ کے خلاف حفاظتی حصارہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازصاحبہ کے مشن کےتحت اورسینئر وزیرمریم اورنگزیب کی سرپرستی میں محکمہ جنگلات صوبہ بھر میں منظم شجرکاری کیلئے سرگرم ہے۔
شجرکاری کے میگاپراجیکٹس  کے ذریعے سموگ اور ماحولیاتی تبدیلی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔ چیف منسٹر پلانٹ فارپاکستان انیشیٹوکے تحت صوبے میں 48,368ایکڑ رقبے پر 42.5ملین پودے جبکہ چیف منسٹرز انیشیٹو فار ایگرو فاریسٹری آن فاریسٹ ویسٹ لینڈ پراجیکٹ کے تحت 3790 ایکڑ رقبے پر 14 لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازصاحبہ کی ہدایت پر محکمہ جنگلات کا راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی 978 ایکڑ اراضی پر وسیع پیمانے پرپودے لگانے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔حکومت پنجاب شجرکاری مہم 2025کا آغاز کرنے جارہی ہے۔جس میں پنجاب کی عوام کا تعاون درکار ہے۔

آئیں، پنجاب کو سرسبز و شاداب بنانے کا خواب حقیقت بنائیں کیونکہ پنجاب کی ہریالی کا سفر ، عوام کے تعاون کے بغیر نامکن ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس