ہارڈ اسٹیٹ ایسی ریاست کو کہا جاتا ہے جہاں حکومت کا کنٹرول سخت اور مرکزی ہوتا ہے، قوانین پر سختی سے عمل کروایا جاتا ہے، اور عوامی آزادیوں پر سخت پابندیاں ہوتی ہیں۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک ہارڈ اسٹیٹ بنانے کی ضرورت ہے۔یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئےکہی۔
ایسی ریاستوں میں فیصلہ سازی عام طور پر چند افراد یا ایک مخصوص گروہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اور سیاسی اختلاف یا اپوزیشن کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا تے ہیں۔ اکثر اوقات، سیکیورٹی ادارے اور فوج کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہوتے ہیں، اور میڈیا پر بھی سخت نگرانی رکھی جاتی ہے۔
اگر تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہارڈ اسٹیٹ کا تصور قدیم ادوار سے موجود رہا ہے۔ بادشاہتیں، سلطنتیں اور آمرانہ حکومتیں اکثر ایسی ریاستوں کی مثال رہی ہیں جہاں عوام پر سخت کنٹرول رکھا گیا۔
قدیم چین، رومی سلطنت، اور قرون وسطیٰ کی یورپی بادشاہتیں اس کی کچھ مثالیں ہیں۔ جدید دور میں فاشزم، کمیونزم اور فوجی حکومتوں میں بھی ہارڈ اسٹیٹ کے عناصر دیکھے جا سکتے ہیں، جیسے کہ جرمنی میں نازی حکومت، سوویت یونین میں اسٹالن کا دور، اور شمالی کوریا کی موجودہ حکومت۔