جعفر ایکسپریس پر حملے کے دس روز بعد بھی ٹرین سروس تا حال بحال نہیں ہوسکی۔ ریلوے حکام کے مطابق سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد ہی ٹرین سروس بحال کی جائے گی۔
حملے کے بعد کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے داخلی راستوں پر تالے لگا دیے گئے ہیں۔
11 مارچ کو بلوچستان کے ضلع بولان میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد مارے گئے جبکہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔
ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل تھی ۔ ٹرین منگل کی صبح 9 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی تھی، مسافر ٹرین کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی کہ اس دوران پہلے ٹریک پر دھماکا کیا گیا اور پھر ٹرین پر فائرنگ ہوئی جس کے بعد ٹرین میں موجود سکیورٹی اہلکاروں اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ بولان کے علاقےمیں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کر کے اسے روک لیا۔ شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بنا کر پہاڑی علاقے کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس کی وجہ سے کلیئرنس آپریشن میں مشکلات درپیش آئیں۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مسافر بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔
کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد سیٹلائٹ فونز کے ذریعے اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں تھے اور مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
ریلوے حکام نے تصدیق کی تھی کہ حملے کے بعد پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس اور کراچی سے کوئٹہ آنے والی بولان میل کو روک دیا گیا ہے، تاکہ مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔