رمضان میں سحر و افطار کے وقت میٹھے کی مختلف ڈشیں روایتی دسترخوان کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہیں، جن کو دیکھ کر میٹھے سے پرہیز کرنے والے بھی ہاتھ روک نہیں پاتے۔
بہت سے روزہ داروں کی رمضان کے دوران میٹھے کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ صرف جسم کی ضرورت نہیں بلکہ ہمارے کھانے پینے کے معمولات بھی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ’مسئلہ ہمارے کھانے کے انداز میں ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی روزہ دار افطار کے آغاز میں زیادہ کھجور کھاتا ہے، جس میں شکر ہوتی ہے تو یہ خون میں انسولین کی سطح کو بڑھاتا ہے، جس سے مجموعی طور پر کھانے کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے خاص طور پر میٹھے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔‘
’زیادہ تر روزہ دار جو غلطی کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ افطار کا آغاز تین سے پانچ کھجوریں کھا کر کرتے ہیں، پھر جوس پیتے ہیں، خاص طور پر وہ تیار شدہ رمضان سپیشل جوس جن میں چینی کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے لبلبہ مسلسل انسولین خارج کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ سحری کا وقت آ جاتا ہے۔ اور زیادہ جوس پینے سے وزن بڑھنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔‘
ماہرِ غذائیت نے رمضان میں بعض لوگوں کے زیادہ میٹھا کھانے کی عادت کو روزے کے دوران ان کے جسم میں شوگر کی سطح کم ہونے کا ردِ عمل بھی قرار دیا، جس کی وجہ سے انھیں میٹھے کی زیادہ طلب محسوس ہوتی ہے۔
سائنسی جریدے سیل میٹابولزم میں ڈنمارک کی یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین کی ایک سائنسی تحقیق شائع ہوئی ہے، جس نے میٹھا کھانے کی خواہش اور جگر کی صحت کے درمیان تعلق کو ظاہر کیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ’جب کوئی شخص میٹھا کھاتا ہے، تو جگر ایک مخصوص ہارمون (FGF21) خارج کرتا ہے جو مسلسل میٹھا اور شکر کھانے کی طلب کا سبب بن سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس ہارمون کے اخراج کی شرح ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے اور یہاں تک کہ طبی طریقوں سے بھی اسے مکمل طور پر قابو میں رکھنا مشکل ہے۔‘
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد کے جگر میں اس مخصوص ہارمون کا اخراج زیادہ ہوتا ہے، انھیں مسلسل میٹھا کھانے کی طلب عام لوگوں کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ غذا پہلے معدے اور آنتوں سے گزرتی ہے اور اس کے بعد جگر کھانے کو پراسیس کرنا شروع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھانے کے بعد ہمیں کبھی محسوس ہوتا ہے کہ پیٹ بھر چکا ہے جبکہ بعض اوقات مزید کھانے کی ہماری خواہش برقرار رہتی ہے۔
روزہ داروں کو چاہیے کہ وہ افطار کے فوراً بعد میٹھا نہ کھائیں کیونکہ بھوک کی شدت کی وجہ سے زیادہ کھانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ افطار کے فوراً بعد میٹھا کھانے سے بدہضمی بھی ہو سکتی ہے۔
میٹھے کا سب سے مناسب وقت افطار کے دو سے تین گھنٹے بعد ہے اور وہ بھی محدود مقدار میں۔ جو مٹھائی آپ کھا رہےہیں، اس کی مقدار پر دھیان دیں یعنی میٹھا اعتدال میں کھائیں، ضرورت سے زیادہ نہیں۔
کوشش کریں کہ روزانہ میٹھی ڈش نہ کھائیں بلکہ وقفے وقفے سے کھائیں۔