انسانی حقوق کی پامالی آج کے جدید دور میں بھی جاری ہے، فلسطین سے شام تک نسل کشی ہورہی ہے، طاقت کے نام پر انسان انسان کو کاٹ رہا ہے، مگر انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے بھی ہرجگہ موجود ہیں۔
24 مارچ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور متاثرین کے وقار کے حق کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ دن ہمیں ان لوگوں کی یاد دلاتا ہے جو ناانصافی، جبر اور ظلم کا شکار ہوئے۔ دنیا کے ہر کونے میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جنہیں انصاف کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات وہ انتظار کبھی ختم نہیں ہوتا۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزی صرف ایک فرد یا ایک قوم کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کا چہرہ داغدار کرتی ہے۔ تاریخ میں کئی ہولناک واقعات گزرے ہیں جو انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں اور دیگر اقلیتوں کا قتل عام، روانڈا میں محض سو دن میں آٹھ لاکھ افراد کی بے رحمانہ نسل کشی، بوسنیا کے سربرینیکا میں ہزاروں معصوم مسلمانوں کا قتل عام، شام میں خانہ جنگی کے دوران بے شمار بے گناہوں کا خون، اور سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ظلم کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں، مگر یہ ختم نہیں ہوتا۔
جب کسی انسان کے بنیادی حقوق چھین لیے جاتے ہیں تو یہ نہ صرف اس کی زندگی کو برباد کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ متاثرین کے وقار کا تحفظ محض ہمدردی کا تقاضا نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا بھی ہے۔ ان کی بحالی، ان کے زخموں پر مرہم رکھنا اور انہیں وہ عزت دینا جس کے وہ مستحق ہیں، یہ سب انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔
دنیا میں ایسے قوانین اور معاہدے موجود ہیں جو انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں، جیسے کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اور جنیوا کنونشن۔ لیکن اگر قوانین بنانے سے ہی سب کچھ ٹھیک ہو جاتا تو آج ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات نہ کر رہے ہوتے۔ اصل مسئلہ ان قوانین پر عملدرآمد کا ہے۔
پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں شعبہِ سیاسیات سے منسلک پروفیسر اکرام اللہ کا کہنا تھا کہ”متاثرین کے وقار کے حق کا تحفظ ریاستوں، عالمی اداروں اور سماجی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور معاہدے جیسے کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ، جنیوا کنونشن، اور دیگر بین الاقوامی معاہدے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے، ان کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں، اور متاثرین کو انصاف فراہم کریں”۔
متاثرین کے لیے انصاف حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کہیں عدالتی نظام کمزور ہے، کہیں سیاست انصاف پر بھاری ہے، اور کہیں مظلوموں کی آواز دبانے کے لیے انہیں دھمکایا جاتا ہے۔ ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں، میڈیا اور عام شہری ایک امید کی کرن ثابت ہو سکتے ہیں۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوموں کی کہانی دنیا کے سامنے لائے، تاکہ طاقتور ظالموں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
معاشرے میں شعور اجاگر کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا انصاف کی فراہمی۔ اگر ہر فرد انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی سطح پر کردار ادا کرے، چاہے وہ کسی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ہو، کسی مظلوم کی مدد کرنا ہو، یا اپنے ارد گرد لوگوں کو آگاہ کرنا ہو، تو دنیا کو ایک بہتر جگہ بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیئر ٹیکر تنظیم کے سربراہ اسفندیار کا کہنا تھا کہ “متاثرین کے وقار کو بحال کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ سب سے پہلے، انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ مجرموں کو سزا دینا نہ صرف متاثرین کے لیے تسلی بخش ہوتا ہے بلکہ یہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بنتی ہے تاکہ وہ ایسے جرائم سے باز رہیں۔ دوسرا اہم پہلو متاثرین کی نفسیاتی اور جسمانی بحالی ہے۔ تشدد، جنگ یا جبر کا” شکار ہونے والے افراد کے لیے طبی سہولیات، ذہنی صحت کی خدمات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو دوبارہ بہتر انداز میں گزار سکیں”۔
یہ دن ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک ایسے معاشرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں جہاں ظلم کے خلاف خاموشی کو ہی بہتر سمجھا جائے؟ یا ہم اس سوچ کو بدلنے کے لیے کچھ عملی اقدامات اٹھا سکتے ہیں؟ انصاف، برابری اور انسانی وقار کے لیے کی جانے والی ہر چھوٹی کوشش دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک منصفانہ اور پرامن دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ خاموشی اکثر ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتی ہے۔