اپریل 3, 2025 12:46 شام

English / Urdu

Follw Us on:

کیا عمران خان کو جیل میں جعلی اخبار دیا جاتا ہے؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
جیل میں عمران خان کو حکومت اپنی مرضی سے جعلی اخبار بنوا کر دیتی ہے۔ (فوٹو: انسٹاگرام)

گزشتہ کچھ دنوں سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ خبر گردش کرتی نظر آئی کہ جیل میں عمران خان کو حکومت اپنی مرضی سے جعلی اخبار بنوا کر دیتی ہے اور بہت سے سیاست دانوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا، مگر اب اس کی تصدیق کرلی گئی ہے۔

بی بی سی نیوز کے صحافی اطہر کاظمی کا ایک ویڈیو کلپ میں کہنا تھا کہ ‘ایک انتہائی معتبر شخصیت میرے خیال میں اس سے معتبر شخصیت شاید کوئی اور ہو نے بتایا ہے کہ ہمیں پتہ چلا ہے عمران خان کو جیل میں جو اخبار دیا جاتا ہے مبینہ طور پر وہ اخبار بھی جعلی ہے، باہر کوئی اور اخبار چھپتا ہے اور اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دے دیا جاتا ہے۔

اطہر کاظمی کی اس ویڈیو کو عام صارفین کے ساتھ ساتھ کئی اہم سیاسی و صحافی شخصیات نے بھی شیئرکیا۔

امریکہ میں مقیم پی ٹی آئی رہنما وقار خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پہ یہ ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کو جو اخبار دیا جا رہا ہے، وہ جعلی ہے یعنی ڈان نیوز کے اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دی جاتیں ہے۔ انہوں نے لکھا کہ فارم 45 والے اخبار کو فارم 47 میں بدل کر دیا جا رہا ہے۔

صحافی عمران افضل راجہ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ عمران خان کو جیل میں جعلی اخبار دیا جاتا ہے؟ اس بات کی تصدیق اگر نہ بھی ہو تو عمران خان تک یہ بات پہنچانا ضروری ہے۔

 سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا گیا، ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ سنا ہے کہ سنا ہے ایوب خان کو بھی جعلی اخبار دیا جاتا تھا، جس میں سب سکھ چین ہوتا تھا۔

ایک صارف نے مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ خان کو لوکل اخبار نہیں لینی چاہیے، واشنگٹن پوسٹ جیسی اخبارات لینی چاہیے، پاکستان کی ساری اخبارات صرف پکوڑے اور سموسے پیک کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ اطہر کاظمی کو بھی اس انتہائی معتبر شخصیت نے یہ بتایا ہے کہ اسے بھی کسی سے پتہ چلا ہے اور اس معتبر شخص نے متعدد صحافیوں کے سامنے کاظمی صاحب سے یہ بات کی۔ بھائی جھوٹی خبریں اس طرح پھیلتی ہیں۔ ریچ کے چکرمیں ان صحافیوں نے اندھی مچائی ہوئی ہے۔

دوسری جانب 92 نیوز کے صحافی ثاقب بشیر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پہ لکھا ہے کہ کچھ دن پہلے کسی نے بات کی تھی کہ عمران خان کو جیل میں فیک اخبار دی جاتی ہے، یہ معلومات درست نہیں ۔ وہی اخبار جیل میں عمران خان کو دی جارہی ہے جو اصل میں ہوتی ہے اور آج جیل میں عمران خان سے اس بات کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔

صارفین کی جانب سے اس پر بھی ملے جلے تبصرے کیے گئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ خبر کافی دلچسپ ہےاور اگر عمران خان نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اصلی اخبار ہی فراہم کی جارہی ہے، تو اس سے وہ افواہیں غلط ثابت ہوتی ہیں جو یہ دعویٰ کر رہی تھیں کہ انہیں جیل میں جعلی یا ایڈٹ شدہ اخبارات دیے جا رہے ہیں۔

ایک صارف نے اطہر کاظمی کو مینشن کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ نام لو فیک نیوز پھیلانے والوں کا، جب کہ کچھ صارفین نے کہا کہ جو اخبار باہر بکتی ہیں وہ کونسا سچی ہوتی ہیں۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود عمران خان کو دی جانے والی جعلی اخبار کی خبر کوئی حیثیت نہیں اور انہیں وہی اخبار دی جارہی ہے جو روز مرہ میں پڑھی جارہی ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس