گزشتہ کچھ دنوں سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ خبر گردش کرتی نظر آئی کہ جیل میں عمران خان کو حکومت اپنی مرضی سے جعلی اخبار بنوا کر دیتی ہے اور بہت سے سیاست دانوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا، مگر اب اس کی تصدیق کرلی گئی ہے۔
بی بی سی نیوز کے صحافی اطہر کاظمی کا ایک ویڈیو کلپ میں کہنا تھا کہ ‘ایک انتہائی معتبر شخصیت میرے خیال میں اس سے معتبر شخصیت شاید کوئی اور ہو نے بتایا ہے کہ ہمیں پتہ چلا ہے عمران خان کو جیل میں جو اخبار دیا جاتا ہے مبینہ طور پر وہ اخبار بھی جعلی ہے، باہر کوئی اور اخبار چھپتا ہے اور اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دے دیا جاتا ہے۔
ایک انتہائی معتبر شخصیت میرے خیال میں اس سے معتبر شخصیت شاید کوئی اور ہو نے بتایا کہ ہمیں پتہ چلا ہے عمران خان کو جیل میں جو اخبار دیا جاتا ہے مبینہ طور پر وہ اخبار بھی جعلی ہے، باہر کوئی اور اخبار چھپتا ہے اور اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دے دیا جاتا ہے۔@2Kazmi pic.twitter.com/j3dHulNh49
— Zeeshan (@zeeshanimranpti) March 22, 2025
اطہر کاظمی کی اس ویڈیو کو عام صارفین کے ساتھ ساتھ کئی اہم سیاسی و صحافی شخصیات نے بھی شیئرکیا۔
امریکہ میں مقیم پی ٹی آئی رہنما وقار خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پہ یہ ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کو جو اخبار دیا جا رہا ہے، وہ جعلی ہے یعنی ڈان نیوز کے اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دی جاتیں ہے۔ انہوں نے لکھا کہ فارم 45 والے اخبار کو فارم 47 میں بدل کر دیا جا رہا ہے۔
عمران خان کو جو اخبار دیا جا رہا ہے وہ بھی جعلی ہے، یعنی ڈان نیوز کے اندر اپنی مرضی کی خبریں چھاپ کر عمران خان کو دی جاتیں ہے
فارم 45 والے اخبار کو فارم 47 میں بدل کر دیا جا رہا ہے pic.twitter.com/hT49stAGFm— Waqar khan (@Waqarkhan123) March 22, 2025
صحافی عمران افضل راجہ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ عمران خان کو جیل میں جعلی اخبار دیا جاتا ہے؟ اس بات کی تصدیق اگر نہ بھی ہو تو عمران خان تک یہ بات پہنچانا ضروری ہے۔
“خان صاحب @ImranKhanPTI کو جیل میں اخبار بھی جعلی چھاپ کر دیا جاتا ہے” ؟؟
۔۔
اس بات کی اگر تصدیق نا بھی ہو تو خان صاحب تک یہ بات پہنچنا ضروری ہے@Aleema_KhanPK
pic.twitter.com/41gSmwq5Ao— Imran Afzal Raja (@ImranARaja1) March 22, 2025
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا گیا، ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ سنا ہے کہ سنا ہے ایوب خان کو بھی جعلی اخبار دیا جاتا تھا، جس میں سب سکھ چین ہوتا تھا۔
سنا ایوب خان کو بھی جعلی اخبار دیا جاتا تھا جس میں سب سکھ چین ہوتا تھا 😅
— khan Je (@TanoliGKpk) March 22, 2025
ایک صارف نے مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ خان کو لوکل اخبار نہیں لینی چاہیے، واشنگٹن پوسٹ جیسی اخبارات لینی چاہیے، پاکستان کی ساری اخبارات صرف پکوڑے اور سموسے پیک کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔
خان کو لوکل اخبار نہیں لینی چاہیے واشنگٹن پوسٹ اور ایسی اخبارات لینی چاہیں پاکستان کی ساری اخبارات صرف پکوڑے سموسے پیک کرنے کے لیے ہوتی ہیں
— Shauket (@shaukethus) March 23, 2025
ایک اور صارف نے لکھا کہ اطہر کاظمی کو بھی اس انتہائی معتبر شخصیت نے یہ بتایا ہے کہ اسے بھی کسی سے پتہ چلا ہے اور اس معتبر شخص نے متعدد صحافیوں کے سامنے کاظمی صاحب سے یہ بات کی۔ بھائی جھوٹی خبریں اس طرح پھیلتی ہیں۔ ریچ کے چکرمیں ان صحافیوں نے اندھی مچائی ہوئی ہے۔
کاظمی کو اس انتہائی معتبر شخصیت نے یہ بتایا ہے کہ اسے بھی “کسی سے پتہ چلا ہے”۔ اور اس معتبر شخص نے متعدد صحافیوں کے سامنے کاظمی صاحب یہ بات کی۔ بھائی جھوٹی خبریں اس طرح پھیلتی ہیں۔ ریچ کے چکر میں ان صحافیوں نے اندھی مچائی ہوئی ہے۔
— Khalid Saifullah (@kshqazi) March 22, 2025
دوسری جانب 92 نیوز کے صحافی ثاقب بشیر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پہ لکھا ہے کہ کچھ دن پہلے کسی نے بات کی تھی کہ عمران خان کو جیل میں فیک اخبار دی جاتی ہے، یہ معلومات درست نہیں ۔ وہی اخبار جیل میں عمران خان کو دی جارہی ہے جو اصل میں ہوتی ہے اور آج جیل میں عمران خان سے اس بات کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔
کچھ دن پہلے کسی نے بات کی تھی کہ عمران خان کو جیل میں فیک اخبار دی جاتی ہے یہ معلومات درست نہیں ۔۔۔ وہی اخبار جیل میں عمران خان کو دی جارہی ہے جو اصل میں ہوتی ہے ۔۔۔ آج جیل میں عمران خان سے تصدیق ہوئی ہے
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) March 25, 2025
صارفین کی جانب سے اس پر بھی ملے جلے تبصرے کیے گئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ خبر کافی دلچسپ ہےاور اگر عمران خان نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اصلی اخبار ہی فراہم کی جارہی ہے، تو اس سے وہ افواہیں غلط ثابت ہوتی ہیں جو یہ دعویٰ کر رہی تھیں کہ انہیں جیل میں جعلی یا ایڈٹ شدہ اخبارات دیے جا رہے ہیں۔
ایک صارف نے اطہر کاظمی کو مینشن کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ نام لو فیک نیوز پھیلانے والوں کا، جب کہ کچھ صارفین نے کہا کہ جو اخبار باہر بکتی ہیں وہ کونسا سچی ہوتی ہیں۔
نام لو فیک نیوز پھیلانے والو کا۔۔۔@2Kazmi
— Aasaf (@macasif1234) March 25, 2025
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود عمران خان کو دی جانے والی جعلی اخبار کی خبر کوئی حیثیت نہیں اور انہیں وہی اخبار دی جارہی ہے جو روز مرہ میں پڑھی جارہی ہے۔