عالمی مارکیٹ میں امریکا کی جانب سے نئی گاڑیوں پر ٹارفز عائد کرنے کی خبر کے اثرات بھارتی کرنسی پر بھی نظر آئیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کیے گئے اس فیصلے نے نہ صرف ایشیائی شئیر مارکیٹ کو متاثر کیا بلکہ امریکی اسٹاکس بھی شدید مندی کا شکار ہو گئے ہیں۔
چند گھنٹوں میں انڈین روپیہ 85.70 کے قریب تھا اور آج متوقع ہے کہ یہ 85.80 سے 85.88 کے درمیان کھلے گا۔ پچھلے سیشن میں روپے کی قیمت 85.7050 تھی اور اب عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی طاقت میں اضافے کی وجہ سے انڈین روپے کی حالت خاصی کمزور نظر آ رہی ہے۔
امریکی صدر کے ٹارفز کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کافی حد تک فروخت ہوئی اور اس کے بعد عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال نے سر اُٹھایا ہے۔
ان تمام حالات میں ڈالر انڈیکس تین ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا حالانکہ بعد میں اس میں کچھ کمی آئی۔
لیکن انڈین روپیہ صرف تجارتی تناؤ کی وجہ سے ہی کمزور نہیں ہو رہا بلکہ مارچ کے آخری دن اور اپریل کے آغاز میں ہونے والی مقامی تعطیلات بھی اس کے اثرات کو بڑھا رہی ہیں۔
انڈیا کے مالیاتی بازار مارچ 31 اور اپریل 1 کو بند رہیں گے جس کی وجہ سے 2 اپریل کو یہ تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں گی۔ اس “اسپاٹ ڈیٹ” کی تبدیلی کے باعث روپے کو ایک اضافی بوجھ جھیلنا پڑے گا جس کا اثر روپے کی قیمت پر پڑے گا اور یہ 10 سے 12 پیسے تک نیچے آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر نے کہا ہے کہ اپریل 2 کو ہونے والی ٹارفز میں نرمی کی جائے گی لیکن تب تک امریکی کرنسی کی قوت اور عالمی مارکیٹ میں حساسیت کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈین روپیہ مزید دباؤ کا شکار رہے گا۔
این زیڈ بینک کے تجزیہ کار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ “ٹارِفز کے اس معاملے کی وضاحت آنے تک خطرے کی گنجائش کم ہوتی محسوس نہیں ہوتی”
اس تمام تر تناؤ کے باوجود ایک اچھی خبر یہ بھی آئی ہے کہ انڈین کی شیئر مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے 25 مارچ کو 664.7 ملین ڈالر کی خریداری کی گئی جس سے انڈین اسٹاکس کو کچھ تقویت ملی۔
تاہم، انڈین بانڈز کی خریداری میں کمی آئی ہے اور 25 مارچ کو غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 56 ملین ڈالر کی فروخت کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی ٹارفز کے حوالے سے مزید واضح معلومات ملتی ہیں تو انڈین روپیہ اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی کرنسیوں کو استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: چینی اے آئی انڈسٹری سے خوفزدہ امریکا نے پاکستان سمیت مختلف ممالک کی 70 کمپنیوں پر پابندی لگادی