اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے صحافی وحید مراد کی جوڈیشل مجسٹریٹ کے جسمانی ریمانڈ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو نوٹس جاری کیا۔
ایک روز قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے سینئر صحافی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا تھا۔
سماعت کے آغاز پر وحید مرادکی وکیل ایمان مزاری نے عدالت سے استدعا کی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے اور ان کے موکل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔
اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں، ایمان مزاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایسی مثال ہے کہ سیشن عدالت نے مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔
دریں اثنا عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس حوالے سے ایجنسی سے کل صبح تک جواب طلب کر لیا۔
گزشتہ سماعت کے دوران استغاثہ کا موقف تھا کہ مراد نے بلوچستان میں ایک کالعدم تنظیم سے متعلق پوسٹ شیئر کی تھی اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے حوالے سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس کے موبائل فون کی بازیابی کی بھی درخواست کی۔
ایف آئی اے نے ان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اس سے قبل مراد کی ساس نے لاپتہ صحافی کی بازیابی کے لیے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ذریعے درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع، اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس اور کراچی کمپنی تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو مدعا علیہ نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی وحید مراد کے خلاف درج ایف آئی آر منظرعام پر، ’جرم‘ کیا ہے؟
لاپتہ صحافی وحید مراد 13 گھنٹے بعد عدالت پیش
درخواست کے مطابق کالی وردی میں ملبوس افراد صبح 2 بجے سیکٹر جی آٹھ میں ان کے گھر پہنچے اور پولیس کی دو گاڑیاں بھی ان کے ساتھ جاتی دیکھی گئیں۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ کالی وردی میں ملبوس افراد مراد کو زبردستی لے گئے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گھر میں داخل ہونے والوں نے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کی۔
کراچی کمپنی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی گئی، لیکن کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ درخواست میں مراد کی بازیابی کے لیے فوری حکم اور ان کے غیر قانونی اغوا میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔