پاکستان نے 2025 کی عالمی سیفٹی انڈیکس رپورٹ میں نمایاں بہتری حاصل کرتے ہوئے امریکہ، برطانیہ اور بھارت جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ رپورٹ عالمی سطح پر سیکیورٹی اور جرائم کی شرح کا جائزہ لینے والے کراؤڈ سورسڈ پلیٹ فارم نمبو نے جاری کی ہے، جس میں مختلف ممالک کی سیکیورٹی صورتحال کا موازنہ کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے 65ویں نمبر پر جگہ بنائی ہے، اور اس کا سیفٹی اسکور 56.3 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس درجہ بندی میں بھارت 66ویں نمبر پر 55.7 اسکور کے ساتھ، برطانیہ 87ویں نمبر پر، امریکہ 89ویں نمبر پر، آسٹریلیا 82ویں نمبر پر اور نیوزی لینڈ 86ویں نمبر پر رہا۔ پاکستان کی اس درجہ بندی میں بہتری کو ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نمبو کے مطابق، دنیا کا سب سے محفوظ ملک اندورا قرار پایا ہے، جس کا سیفٹی اسکور 84.7 ہے۔ یہ یورپی ملک اپنی کم جرائم کی شرح اور پرسکون ماحول کے باعث سیاحوں کے لیے ایک محفوظ ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ دیگر محفوظ ممالک میں متحدہ عرب امارات (84.5)، قطر (84.2)، تائیوان (82.9)، عمان (81.7)، سعودی عرب (76.1) اور چین (76.0) شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ’بلوچ مظاہرین پرامن نہیں‘ پاکستان نے اقوام متحدہ کے بلوچستان سے متعلق بیان کو ‘افسوس ناک’ قرار دے دیا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں جرائم کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی درجہ بندی متاثر ہوئی ہے۔آسٹریلیا 82ویں نمبر پر 52.7 اسکور کے ساتھ، نیوزی لینڈ 86ویں نمبر پر 51.8 اسکور کے ساتھ، برطانیہ 87ویں نمبر پر اور امریکہ 89ویں نمبر پر 50.8 اسکور کے ساتھ رہا۔ فرانس 110ویں نمبر پر 44.6 اسکور کے ساتھ موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں وینزویلا پہلے نمبر پر آیا ہے، جس کا سیفٹی اسکور 19.3 ہے۔ دیگر غیر محفوظ ممالک میں پاپوا نیو گنی (19.7)، ہیٹی (21.1)، افغانستان (24.9) اور جنوبی افریقہ (25.3) شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی وجوہات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اور شہروں میں جرائم کی شرح میں کمی شامل ہیں۔
نمبو کی سیفٹی انڈیکس رپورٹ مسافروں اور مقامی شہریوں کے سرویز اور تجربات پر مبنی ہوتی ہے۔ اس میں جرائم کی شرح، چوری، ڈکیتی، ہراسانی اور پرتشدد واقعات کے ڈیٹا کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ مسافروں کو مختلف ممالک کی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
تاہم، نمبو کی ٹیم کے مطابق، یہ انڈیکس عوامی آراء اور صارفین کے فراہم کردہ ڈیٹا پر مبنی ہے، جو بعض اوقات سرکاری سطح پر جاری کردہ اعداد و شمار سے مختلف ہو سکتے ہیں۔