اپریل 4, 2025 4:27 شام

English / Urdu

Follw Us on:

’ترقی ہوتی تو حالات ایسے نہ ہوتے‘ بلوچستان سونے کی چڑیا یا دہکتا انگارہ؟

مادھو لعل
مادھو لعل
بلوچستان میں چین کے تعاون سے مختلف منصوبے جاری ہیں (تصویر: گوگل)

2015 میں جب چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کا معاہدہ ہوا تو اسے پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر قرار دیا گیا۔ یہ منصوبہ 62 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل تھا، جس کے تحت انفراسٹرکچر، توانائی، اور تجارتی ترقی کو فروغ دینے کے دعوے کیے گئے تھے۔

گوادر کو سی پیک کا دل کہا گیا اور حکومت نے بارہا یقین دلایا کہ یہ منصوبہ بلوچستان کے عوام کے لیے خوشحالی لے کر آئے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت مستحکم ہوگی۔

مگر آج ایک دہائی گزرنے کے باوجود گوادر کے مقامی ماہی گیر روزگار کے لیے پریشان ہیں، بلوچستان میں بے روزگاری اپنی انتہا کو چھو رہی ہے اور ترقی کے وعدے صرف کاغذات تک محدود نظر آتے ہیں۔

یہی صورتحال ریکوڈک منصوبے کی بھی ہے، جہاں بیرک گولڈ کارپوریشن اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ بلوچستان جو معدنیات کے بے شمار خزانوں کا مالک ہے، وہاں کے عوام ان وسائل کے ثمرات سے کیوں محروم ہیں؟

بلوچستان کے مقامی صحافی ببرک کارمل جمالی اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کا فائدہ مقامی معیشت کو نہیں ہو رہا اور یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوگا۔

بلوچستان کے وسائل پر قابض عناصر جن میں سردار، جاگیردار اور کچھ بین الاقوامی کمپنیاں شامل ہیں، ان وسائل کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ نتیجتاً بلوچستان کی معیشت ترقی کے بجائے مزید زوال کا شکار ہو رہی ہے۔

بلوچستان کے اہم منصوبوں میں ریکوڈک اور سینڈک شامل ہیں، جہاں تانبہ، سونا اور دیگر قیمتی دھاتیں نکالی جا رہی ہیں۔ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں سے نکلنے والے اربوں ڈالر کے معدنی ذخائر کے باوجود بلوچستان کے عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو کے مطابق اگر بلوچستان میں واقعی ترقی ہو رہی ہوتی تو مقامی آبادی کے حالات بہتر ہوتے، صحت اور تعلیم کے شعبے مستحکم ہوتے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملتے۔

مگر یہاں حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان سے نکلنے والے وسائل کا فائدہ زیادہ تر غیر ملکی کمپنیوں اور وفاقی حکومت کو ہو رہا ہے، جب کہ مقامی افراد کو ان کا جائز حق بھی نہیں دیا جا رہا۔

ریکوڈک جہاں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تانبے اور سونے کا ذخیرہ موجود ہے، ایک بار پھر خبروں کی زینت بنا جب 2022 میں بیرک گولڈ کارپوریشن اور حکومتِ پاکستان کے درمیان نیا معاہدہ طے پایا۔

حکومت نے اعلان کیا کہ بلوچستان کو اس منصوبے سے 25 فیصد حصہ ملے گا، مگر بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں اس معاہدے پر سخت اعتراض کر رہی ہیں۔

ببرک کارمل جمالی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ 25 فیصد حصہ ایک دکھاوا ہے۔ اصل منافع تو بیرونی کمپنیوں اور وفاقی حکومت کی تجوری میں جائے گا۔

اگر واقعی بلوچستان کو اس کا جائز حصہ دیا گیا ہے، تو اس کا اثر مقامی ترقی پر کیوں نظر نہیں آتا؟ ریکوڈک سے نکلنے والے وسائل مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیوں نہیں ہو رہے؟”

اس حوالے سے ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے وسائل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کیے جانے والے معاہدے شفاف نہیں ہوتے۔ اگر ریکوڈک میں بلوچستان کا 25 فیصد حصہ تسلیم کر بھی لیا جائے، تو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ رقم کس طرح خرچ کی جا رہی ہے۔

کیا یہ مقامی لوگوں کی فلاح پر خرچ ہو رہی ہے؟ کیا بلوچستان کے اسکولوں، اسپتالوں اور انفراسٹرکچر پر کوئی فرق پڑا ہے؟ اگر نہیں، تو یہ صرف ایک سیاسی بیان ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

بلوچستان کے وسائل کا استحصال صرف معدنیات کی حد تک محدود نہیں، بلکہ یہاں کے مقامی افراد کو اعلیٰ ملازمتوں سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔

ببرک کارمل جمالی کے مطابق بلوچوں کو اعلیٰ ملازمتیں نہ دینے کا سوال ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ ماضی میں ترقیاتی منصوبوں میں بلوچوں کو ترجیح دی جاتی تھی، مگر آج ایسا نہیں ہے۔ سرداری نظام اور جاگیردارانہ سوچ کی وجہ سے مقامی لوگ خود بھی مزدوری کو حقیر سمجھتے ہیں۔

دوسری طرف حکومتی پالیسیوں اور ادارہ جاتی ناانصافی کی وجہ سے بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں برابری کے مواقع نہیں دیے جاتے۔

ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالتے ہیں کہ بلوچ نوجوانوں کے لیے اعلیٰ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے، انہیں صرف نچلے درجے کی ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔

بڑی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر زیادہ تر افراد دوسرے صوبوں سے آتے ہیں۔ اگر بلوچستان کی ترقی کا خواب حقیقت بنانا ہے، تو مقامی افراد کو ان کے وسائل پر خود مختاری دینی ہوگی اور انہیں ان منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دینا ہوگا۔

بلوچستان میں تعلیمی شعبہ بھی شدید زوال کا شکار ہے۔ تعلیمی ادارے جاگیرداروں اور بااثر طبقات کے زیر اثر ہیں، جس کی وجہ سے عام بلوچ طالب علموں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کم ملتے ہیں۔

ببرک کارمل جمالی کہتے ہیں کہ بلوچستان میں اسکالرشپ حاصل کرنا بھی ایک مشکل کام بن چکا ہے۔ زیادہ تر تعلیمی وظائف (اسکالرشپ) سرداروں، جاگیرداروں اور بااثر خاندانوں کے افراد کو دیے جاتے ہیں، جب کہ عام بلوچ طلبہ کو محروم رکھا جاتا ہے۔

اس سفارش کلچر نے بلوچستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔

ایڈووکیٹ تقویم چانڈیو کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی نظام کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں سے جو آمدنی حاصل ہو رہی ہے، اسے تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

بلوچستان کے نوجوان اگر تعلیم یافتہ ہوں گے، تو وہ خود ان وسائل سے استفادہ کر سکیں گے اور پھر باہر سے کمپنیوں کو بلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

بلوچستان کے معدنی وسائل، سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبے اس وقت تک مقامی لوگوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتے، جب تک کہ ان میں شفافیت، مقامی افراد کی شرکت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہ بنایا جائے۔

ببرک کارمل جمالی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ابھی باقی ہے کہ بلوچستان کے وسائل یہاں کے عوام کے لیے ترقی لائیں گے یا استحصال کا ایک نیا باب کھولیں گے۔

اگر حکومت اور کمپنیاں مقامی لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ورنہ بلوچستان کے دہکتے انگارے شاید ابھی مزید جلیں گے۔

بلوچستان کے وسائل پر جاری بحث میں ایک بنیادی سوال اب بھی باقی ہے کہ کیا سی پیک، ریکوڈک اور دیگر ترقیاتی منصوبے واقعی بلوچستان کے عوام کے لیے خوشحالی لائیں گے، یا یہ محض استحصال کا ایک نیا باب ہے؟

 

مادھو لعل

مادھو لعل

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس