پاکستان نے سیاحت کے لیے محفوظ ملکوں کی درجہ بندی میں انڈیا، برطانیہ، امریکہ، اسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ائرلینڈ، سویڈن اور ملائیشیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ درجہ بندی عالمی کراؤڈ سورسڈ پلیٹ فارم نمبو نے جاری کی ہے، جس میں پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ آخر ایسا کیسے ممکن ہوا؟
2025 کی اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے 65ویں نمبر پر جگہ بنائی ہے، جس کا سیفٹی اسکور 56.3 رہا۔ یہ وہی درجہ بندی ہے جس میں پاکستان نے بھارت، امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اگر ہم سب سے محفوظ ممالک کی بات کریں تو اندورا اس فہرست میں پہلے نمبر پر رہا، جس کا سیفٹی اسکور 84.7 ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات، قطر، تائیوان اور عمان جیسے ممالک شامل رہے۔
یہ درجہ بندی کچھ مغربی ممالک کے لیے حیران کن رہی، کیونکہ ان کی پوزیشن کافی نیچے چلی گئی ہے۔ امریکہ 89ویں اور برطانیہ 87ویں نمبر پر آ گئے، جب کہ فرانس مزید نیچے جا کر 110ویں نمبر پر پہنچ گیا۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیفٹی درجہ بندی میں اتنی بہتری کیسے آئی؟ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کی ممکنہ وجوہات میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، امن و امان کی بہتری، اور سیکیورٹی فورسز کی بہتر حکمت عملی شامل ہیں۔
دوسری طرف، اگر سب سے غیر محفوظ ممالک کی بات کریں تو وینزویلا اس فہرست میں سب سے نیچے رہا، جب کہ ہیٹی، افغانستان، جنوبی افریقہ اور پاپوا نیو گنی بھی خطرناک ممالک میں شامل رہے۔
پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے، جو نہ صرف سیاحت بلکہ ملک کی عالمی ساکھ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر پاکستان اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو مستقبل میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔