پاکستان میں ایک نئی ڈیجیٹل اسکیم Treasure NFT تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جسے ماہرین ایک جدید پونزی اسکیم قرار دے رہے ہیں، اس اسکیم میں لوگ رقم جمع کرواتے ہیں اور مزید افراد کو شامل کرنے پر کمیشن حاصل کرتے ہیں۔
جوں جوں نیٹ ورک بڑھتا جاتا ہے، ابتدائی سرمایہ کاروں کو منافع ملتا رہتا ہے، ایپ مالک کو لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں روپے ملتے جائیں گے، وہ ان میں سے تھوڑا تھوڑا کمیشن دیتا جاتا ہے تاکہ مزید لالچی لوگ شامل ہوتے جائیں ، جب اس کا ہدف پورا ہو جائے گا تب وہ کھربوں روپے لے کر اڑن چھو ہو جائے گا
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ دینِ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ پیسہ اس طریقے سے کمائے جائیں؟ آج کل لوگ پیسہ کمانے کے لیے اندھا دھند دوڑ رہے ہیں، اس میں مفتی مولوی پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں۔
یہ ایپ بنانے والا بھی ایک پڑھا لکھا ڈاکٹر اور بزنس مین ہے، اسی کو آپ اربوں کا فائدہ دے رہے ہیں لگے رہو مسلمانو لگے رہو۔
اصل افسوس اس بات کا ہے کہ اب پیسے کو ایمان بنا لیا گیا ہے، یعنی لوگوں کو پرواہ ہی نہیں کہ کمائی کا ذریعہ حلال ہے یا حرام؟ جن لوگوں کو وقتی فائدہ ہو رہا ہے، وہ خوش ہو رہے کہ ہم کامیاب ہو گئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہی فلاح ہے؟ اسے کامیابی کہتے ہیں؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں ایک عالم دین Treasure NFT کی کمائی کو “جائز” قرار دے رہے ہیں۔ اس بیان پر عوامی ردِعمل سامنے آیا اور کئی لوگوں نے اسے اسلامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔
اب تک حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس اسکیم پر کوئی واضح ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس معاملے پر بروقت کارروائی نہ کی گئی، تو ہزاروں افراد کی زندگی بھر کی جمع پونجی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جب ایسی اسکیمیں پاکستان میں مقبول ہوئی ہوں، ماضی میں ڈبل شاہ اسکینڈل سمیت کئی پونزی اسکیموں نے عوام کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا، لیکن اس کے باوجود لوگ بغیر تحقیق کے ایسی اسکیموں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام ایک بار پھر لالچ کے جال میں پھنس رہی ہے؟ اور کیا حکومت اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، کوئی عملی قدم اٹھائے گی؟