عوام کو بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی امید دلائی گئی تھی اور 23مارچ کو قوم کو ایک بڑا اعلان سننے کی امید تھی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا،بجلی کے نرخوں میں آٹھ روپے فی یونٹ کمی کی خبریں آئیں، لیکن یومِ پاکستان پر اس حوالے سے کوئی اعلان نہ ہونے پر عوام میں بے چینی بڑھ گئی۔
حکومت کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے ذریعے حاصل ہونے والے اضافی ریونیو کو بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان میں بجلی کی آئے روز بڑھتی ہوئی قیمت کی مذمت کی ہے اور کہا کہ حکومت کو بہت وقت دے دیا، عید کے بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے خلاف بڑی تحریک کا آغاز کریں گے۔
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے توسیع فنڈ سہولت کے تحت پہلے دو سالہ جائزے کے مرحلے میں ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پی یز)کے معاہدوں پر نظرثانی کے ذریعے بجلی کے ٹیرف میں دو روپے فی یونٹ کمی کی تجویز دی گئی تھی۔
لیکن آئی ایم ایف نے اس پیکیج کی افادیت پر سوالات اٹھا دیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی مالیاتی صورتحال ایسی نہیں کہ کسی بھی قسم کی سبسڈی یا ریلیف دیا جا سکے۔
حکومت کے دعووں کے برعکس نیپرا کا ایک الگ مؤقف ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نیپرا کو سالانہ بیس ٹیرف پر نظرثانی کی درخواست دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
تاجر برادری اور عوام سراپا احتجاج ہیں۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کے نرخوں میں کمی نہ ہوئی تو وہ عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کریں گے۔
ماہرین کی رائے میں پاکستان میں بجلی دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی ترین ہے، جس کی وجہ غیر مؤثر معاہدے، مہنگی توانائی اور پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کھل کر تنقید کی اور کہا کہ جب خطے کے دیگر ممالک میں بجلی سستی ہے، تو پاکستان میں مہنگی کیوں؟
حکومت نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عندیہ دیا ہے۔ اگر یہ اقدامات کیے گئے تو کیا واقعی بجلی کے نرخوں میں کمی ہوگی؟ یا یہ ایک اور سیاسی وعدہ ہی رہے گا؟
عوام کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہےکیا حکومت اپنے وعدے پر عمل کر پائے گی یا یہ بھی محض ایک خواب ہی رہے گا؟ بجلی کے نرخوں میں کمی کا معاملہ صرف معاشی نہیں، بلکہ عوامی فلاح کا بھی سوال ہے۔