بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کی قیادت میں جاری دھرنے کے قریب مستونگ کے علاقے لک پاس میں مبینہ خودکش دھماکہ ہوا، خوش قسمتی سے سردار اختر مینگل اور دیگر قائدین محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس کے مطابق خودکش بمبار نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے احتجاج کے قریب دھماکہ کیا۔
عینی شاہدین نے کا کہنا ہے کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس نے قریبی علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔
پولیس حکام نے کہا ہے کہ دھماکے کی نوعیت کی تحقیقات جاری ہیں۔
بی این پی کے ترجمان غلام نبی مری کے مطابق خودکش حملہ آور اسٹیج کے قریب جانا چاہتا تھا، لیکن سردار اختر مینگل کے ذاتی محافظوں نے اسے مشکوک جان کر روک لیا اور دھرنے کے پنڈال سے باہر نکال دیا، جس پر حملہ آور نے خود کو وہاں دھماکے سے اڑا لیا۔
سردار اختر مینگل نے میڈیا کو بتایا ہے کہ حملہ آور نے دھرنے سے تقریباً 400 گز کے فاصلے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں بی این پی کے چار کارکن زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں کسی تنظیم سے کوئی خطرہ نہیں، اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ سرکار سے ہے۔ حکومت جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنا چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین کی گرفتاری کے خلاف بی این پی نے 28 مارچ کو وڈھ خضدار سے لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔ یہ مارچ مختلف شہروں سے گزرتا ہوا لک پاس پہنچا، جہاں سیکیورٹی فورسز نے ٹینل کے قریب کنٹینرز لگا کر راستہ بند کر دیا۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد بی این پی نے لک پاس میں دھرنا دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کوئٹہ ضرور جائیں گے اور جب تک گرفتار خواتین کو رہا نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔
بی این پی نے کوئٹہ میں دھرنے کی اجازت کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی، لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث درخواست مسترد کر دی گئی۔