عید مسلمانوں کے لیے خوشیوں، محبتوں اور خاندانی ملاپ کا تہوار ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کے لیے بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔
عید کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفر کی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ بسوں، ٹرینوں اور دیگر سفری ذرائع پر بے پناہ رش، ٹکٹوں کی عدم دستیابی اور کرایوں میں بے تحاشا اضافہ عام شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس سال بھی عید پر یہی صورت حال دیکھنے میں آئی اور عوام کو سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
عید کے موقع پر ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے عام شہری سخت پریشان ہیں۔
مسافروں نے ‘پاکستان میٹرز’ کو بتایا کہ بس ٹکٹوں کے نرخوں میں 500 سے 1000 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے، جو عوام پر ایک اضافی بوجھ ہے۔
ایک مسافر کا کہنا تھا کہ اگر سروس بہتر ہو تو ٹھیک ہے، لیکن اچانک کرایے بڑھا دینا عوام پر ظلم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنی ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کرے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مسافروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے بسوں اور ٹرینوں کی ٹکٹیں جلدی فروخت ہو گئیں۔ جو لوگ پہلے سے بکنگ کروا چکے تھے، انہیں تو ٹکٹ مل گئے، لیکن جو آخری دنوں میں آئے، انہیں بلیک میں مہنگی ٹکٹیں خریدنی پڑیں۔
کچھ شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی بار چکر لگائے، لیکن ٹکٹ نہیں ملی۔ آخرکار ایک جاننے والے نے اپنی پہلے سے خریدی گئی ٹکٹ مہنگے داموں ہمیں دے دی۔”
عید کے سفر میں بدنظمی، مہنگائی اور رش نے عوام کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے پہلے سے منصوبہ بندی کریں تو عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔