اپریل 4, 2025 7:36 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

افغانستان: پاکستان اور ایران کے متصادم مفادات یا مشترکہ چیلنج؟

حسیب احمد
حسیب احمد
افغان مہاجرین کی بے دخلی کا سلسلہ تاخیر کے بعد دوبارہ شروع( فائل فوٹو)

افغانستان کی سرزمین، جو تاریخ کی پیچیده اور متنازعہ سرحدوں کی گواہ ہے، یہ دھرتی ایک مرتبہ پھر عالمی اور علاقائی طاقتوں کے مفادات کی کشمکش کا مرکز بن چکی ہے۔

اس سرزمین پر اثر و رسوخ قائم کرنے کی دوڑ میں جہاں عالمی طاقتیں مداخلت کر رہی ہیں، وہیں پاکستان اور ایران جیسے برادر اسلامی ممالک بھی اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ دونوں ممالک کی افغانستان کے حوالے سے پوزیشن مختلف ہونے کے باوجود ان کے مفادات کا انحصار ایک دوسرے پر بھی ہے۔

پاکستان اور ایران دونوں کی افغانستان کے حوالے سے اپنی الگ الگ ترجیحات اور مفادات ہیں۔ پاکستان کے لیے افغانستان کا استحکام نہ صرف اس کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کے لیے افغانستان میں ایک ایسی حکومت کا قیام بھی ضروری ہے جس میں تمام لسانی، سیاسی اور اقلیتی گروہوں کی نمائندگی ہو تاکہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

منہاج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشن کے پروفیسر ڈاکٹر حسن فاروق مشوانی نے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے جغرافیہ کو دیکھا جائے تو یہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے بیچ میں واقع ہے، جو عالمی طاقتوں کے مفادات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

یہ ملک روس، چین، ایران اور پاکستان کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک علاقے کے طور پر موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی جغرافیائی اہمیت نے اسے عالمی طاقتوں کے لیے ایک چیلنج اور موقع بنا دیا ہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ دہائیوں سے جنگ کی نظر ہے۔

پاکستان کی سرحد (ڈیورنڈ لائن) افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر سے زائد طویل ہے اور اس کا افغانستان میں مضبوط کردار پاکستان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایران بھی افغانستان میں خاص طور پر طالبان حکومت کے قیام کے بعد اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ایران نے افغانستان میں بیرونی مداخلت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس خطے میں بیرونی مداخلت کے نتائج ہمیشہ ناکامی کی صورت میں نکلتے ہیں۔

اس سب کا اشارہ بالواسطہ طور پر پاکستان کی جانب تھا، جو کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ روابط رکھتا ہے۔

ایران نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مل کر پاکستان کے ذریعے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر حسن فاروق نے مزید کہا کہ افغانستان کے سیاسی عدم استحکام نے پاکستان اور ایران پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

ان کے مطابق افغانستان میں عدم استحکام نے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا ہے، جب کہ ایران نے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی ہے جیسے کہ وہاں کی سیاسی جماعتوں کو مدد فراہم کی، تجارتی تعلقات بڑھایا اور مختلف عسکری گروپوں کو سپورٹ بھی کیا، جب کہ دونوں ممالک نے اپنی داخلی سیاست میں افغانستان کی صورتحال کو اہمیت دی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی خارجہ پالیسی میں افغانستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ 1979 کی دہائی میں سرد جنگ کے دوران افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تلخی آئی اور پاکستان نے افغان مجاہدین کی بھرپور حمایت کی۔

اس کے نتیجے میں سوویت یونین کی پسپائی ہوئی اور طالبان کی حکومت قائم ہوئی لیکن طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد بھی پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔

اسی دوران افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے پاکستان میں سماجی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل بھی پیدا کیے، جو آج بھی حل طلب ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں پیچیدگیاں وقتاً فوقتاً بڑھتی رہی ہیں، خاص طور پر جب انڈیا نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ بڑھایا۔

انڈیا نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا اور مختلف دہشت گرد گروپوں کو سپورٹ بھی کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو داخلی اور خارجی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

ان تمام تر حالات میں ایران کا کردار اور اس کی پوزیشن پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ایران بھی افغانستان کے حوالے سے اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔

ایران اور پاکستان کے تعلقات میں تاریخی بنیادیں بھی بہت مضبوط ہیں، دونوں ممالک کے درمیان 805 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے اور دونوں کے تعلقات ثقافتی، مذہبی اور تجارتی سطح پر گہرے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ تاہم، ایران اور پاکستان کے درمیان کئی مسائل ایسے بھی ہیں، جو ان کے تعلقات میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان بلوچ قومیت کے مسائل اور ایران کے ساتھ انڈیا کے اکانومک اور ثقافتی تعلقات کبھی کبھار ایران اور پاکستان کے درمیان دوریاں پیدا کرتے ہیں۔

ایران نے اپنے اقتصادی مفادات کے لیے انڈیا کے ساتھ تعلقات استوار کیے، لیکن پاکستان کی ناپسندیدہ پالیسیوں کے سبب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی رہی۔

اگرچہ ایران اور پاکستان دونوں افغانستان میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں لیکن ان کے مفادات کبھی کبھار ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔

پاکستان کا ماننا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت اس کے مفادات کے لیے ضروری ہے، جب کہ ایران افغانستان میں اپنی جغرافیائی اور سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی طرح ایران نے پاکستان کو یاد دلایا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کے نتائج ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔

اس سب کے چلتے افغانستان کا مستقبل واضح نہیں ہے کیونکہ طالبان کے زیر اثر افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے افغان عوام، عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گیں۔

اس کے علاوہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کی نوعیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک کس طرح اپنے مفادات کو افغانستان میں ایک دوسرے کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔

پاکستان اور ایران دونوں کے لیے افغانستان میں قیام امن ایک چیلنج تو ہے، لیکن اگر دونوں ممالک اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر افغانستان میں استحکام کی کوشش کریں تو نہ صرف ان کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں امن و سکون کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔

یہ وقت ہے کہ دونوں ممالک اپنی تاریخ، مذہب اور ثقافت کے تعلقات کو ایک نئی سمت دے کر افغانستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی، ایران کا اثر و رسوخ اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطہ ایک غیر مستحکم صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے۔

دوسری جانب عالمی طاقتیں خاص طور پر امریکا اور چین اس خطے میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ تاہم، افغانستان کا سیاسی عدم استحکام پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازعات اور ایران کا ممکنہ کردار خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔

پاکستان اور ایران کے تعلقات کی تقدیر اب ان کی مشترکہ کوششوں پر منحصر ہے۔ اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کی حمایت اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف ان کے درمیان پائیدار تعلقات استوار ہو سکتے ہیں بلکہ افغانستان میں بھی امن کا سورج طلوع ہو سکتا ہے۔

حسیب احمد

حسیب احمد

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس