ڈونلڈ ٹرمپ نےامریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی 29 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کرکے تجارتی جنگ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکا کو درآمد کی جانے والی زیادہ تر اشیا پر 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ ساتھ حریفوں سے لے کر اتحادیوں تک درجنوں ممالک پر زیادہ ڈیوٹی لگانے کے ٹرمپ کے فیصلے نے عالمی تجارتی جنگ کو تیز کر دیا ہے جس سے افراط زر کو روکنے خدشہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا تمام درآمدات پر 10 فیصد اور غیرملکی ساختہ گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرے گا۔
ان کا کہنا تھاکہ یورپی یونین پر 20 فیصد، چین پر 34 فیصد اور جاپان پر 24 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بھارت پر 26 فیصد اسرائیل پر 17 فیصد اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔
امریکی صدر کا کہنا تھاکہ پاکستان ہم سے 58 فیصد ٹیرف چارج کرتا ہے، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بنگلا دیش پر 37 فیصد ٹیرف عائدہوگا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ باہمی محصولات امریکی اشیا پر عائد ڈیوٹیوں اور دیگر نان ٹیرف رکاوٹوں کا جواب ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ نئے لیویز سے گھر پر مینوفیکچرنگ کی ملازمتوں کو فروغ ملے گا۔
بیرونی ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ محصولات عالمی معیشت کو سست کر سکتے ہیں، کساد بازاری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں اور اوسط امریکی خاندان کے لیے زندگی کے اخراجات ہزاروں ڈالر تک بڑھ سکتے ہیں۔
کینیڈا اور میکسیکو، امریکہ کے دو سب سے بڑے تجارتی شراکت دار، پہلے ہی بہت سے سامان پر 25فیصد محصولات کا سامنا کر رہے ہیں اور گزشتہ روز کے اعلان سے انہیں اضافی محصولات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا،حتیٰ کہ کچھ ساتھی ریپبلکنز نے بھی ٹرمپ کی جارحانہ تجارتی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔