وزیر اعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں سات روپے 41 پیسے فی یونٹ، کمرشل صارفین کے لیے سات روپے 60 پیسےفی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے لیے منعقدہ تقریب میں وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج عید کی مناسبت سے آپ کو ایک خوش خبری سنانے آیا ہوں جس کا وعدہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کیا تھا۔
وزیراعظم نے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز) کے ساتھ نظرثانی شدہ معاہدوں کی تفصیلات بھی فراہم کیں اور دیگر اہم اصلاحات پر روشنی ڈالی جن کے نتیجے میں قومی خزانے کو 3,696 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔
سات روپے 41 پیسےروپے فی یونٹ کٹوتی حکومت کے بجلی کے نرخوں میں کمی کے منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے، اس سے قبل کی تجاویز میں چھ روپے سے 8 روپے فی یونٹ تک کمی کی تجویز دی گئی تھی۔
قیمتوں میں کمی کی تفصیلات بتاتے ہوئے، وزیر اعظم شہباز نے وضاحت کی کہ فی یونٹ ریٹ جو جون 2024 میں 58.35 روپے تھا، 10.3 روپے فی یونٹ کمی کے ساتھ 48.19 روپے کر دیا گیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آج اعلان کردہ قیمتوں میں اضافی کمی سے پاکستانی عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے بجلی چوری کے جاری مسئلے پر بھی روشنی ڈالی، اندازے کے مطابق اس عمل کی وجہ سے ملک کو سالانہ تقریباً 600 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ان نقصانات کا مالی بوجھ غیر منصفانہ طور پر کمزور گروہوں، جیسے غریبوں، بیواؤں اور یتیموں پر اثر انداز ہوتا ہے، اور بجلی چوری کے خاتمے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
مزید برآں، وزیراعظم نے بجلی کے شعبے میں ایک کھلی منڈی کے قیام کی تجویز پیش کی، جس کا مقصد صحت مند مسابقت کو فروغ دینا اور بجلی کے نرخوں کو مزید کم کرنا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم فیس بک پر لکھا کہ
بیک وقت اسلام آباد اور کراچی میں بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کی مہنگی بجلی و بندش کے حوالے سے دئیے گئے دھرنوں اور حافظ نعیم الرحمن کے عوام کو دئیے گئے شعور کی بدولت حکومت بجلی کی قیمت کم کرنے پر مجبور۔