اگر آپ اب بھی ان خیالوں میں گم ہیں کہ ہمارے بارے میں لوگ کیا سوچتے ہیں تو لوگ کچھ کہیں یا نہ کہیں، مگر آپ کی زندگی عذاب ضرور بن جائے گی، تو ضروری ہے کہ خود اعتمادی پیدا کریں۔
یہ کہاوت آپ نے بار بار سنی ہو گی کہ کھاؤ من بھاتا، پہنو جگ بھاتا یعنی کھاؤ اپنی مرضی کا، پہنوں لوگوں کی مرضی کا۔
اگر آپ سوچیں گے کہ جو میں پہن رہا ہوں، لوگ اسے دیکھ کر کیا کہیں گے تو یہ آپ خود کی توہین کر رہے ہیں، اس سے آپ کا اعتماد ٹوٹے گا اور آپ احساس کمتری کا شکار ہوں گے۔
آپ کسی فیملی فنکشن پر جاتے ہیں، لوگوں سے ملتے جلتے ہیں، مگر آپ نے کچھ ایسا پہن لیا ہے، جس سے آپ کے لیےحرکت کرنا بھی مشکل ہو جائے ، تو آپ اس سےکمفرٹ ایبل فیل نہیں کر سکے گے۔ اس کا اثر آپ کی پرسنالٹی پہ بھی پڑے گا اور لوگوں کے سامنے آپ کا امیج بھی اچھا نہیں بنے گا۔
سوال یہ ہے کہ آپ نے آخر ایسا پہنا کیوں؟کیونکہ معاشرہ آپ کو بتاتا ہے کہ اگر آپ فٹنگ والے کپڑے پہنیں گے تو آپ پر زیادہ سوٹ کرے گا لیکن حقیقت اس سے برعکس ہےآپ نے اپنے اعتماد کی بجائے دوسروں کو ترجیع دے کراپنے کونفیڈنس پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا ۔
اس کے برعکس جب آپ اپنی مرضی کا پہنتے ہیں، تو آپ کم فرٹ ایبل محسوس کرتے ہیں۔ آپ کا اعتماد بڑھتا ہے اور آپ کی پرسنالٹی پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
جب تک آپ دوسروں کی مرضی کے مطابق جیئں گے تو آپ کو کبھی بھی سکون نہیں آئے گا۔
اصل خوشی خود کو قبول کرنے میں اور اپنی پسند و نا پسند کو پہچاننے میں ہے۔
لہٰذا، لوگوں کی فکر کرنا چھوڑ دیں اور اپنی زندگی خود جینا شروع کریں۔ آپ اپنی زندگی کے مالک ہیں، کسی اور کو یہ حق نہ دیں کہ وہ آپ کے فیصلے کرے۔ خود پر یقین رکھیں، اپنی پسند کو اہمیت دیں اور اپنی شخصیت کو نکھاریں۔ کیونکہ آپ کیلئے اگر کوئی ضروری ہے تو آپ خود ہیں