پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ انہیں پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ٹاسک سونپنے کے لیے جاری کردہ کسی ہدایت کا علم نہیں ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فراز نے کہا کہ میں چھ ماہ سے پی ٹی آئی کے بانی سے نہیں ملا، عدالتی احکامات کے باوجود ہمیں ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے مزید کہاکہ جب تک میں اسے براہ راست ان سے نہیں سنتا، میں کسی بھی قیاس آرائی پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔
واضح رہے کہ ان کا یہ تبصرہ اس ہفتے کے شروع میں اڈیالہ جیل میں عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈا پور اور اطلاعات کے مشیر بیرسٹر سیف کے درمیان ہونے والی مبینہ ملاقات کے بعد متضاد اطلاعات کے درمیان آیا ہے۔
نجی نشریاتی ادارہ ایکسپریس نیوز کے مطابق دونوں معاونین نے خان کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت پر راضی کرنے پر آمادہ کیا اور انہیں بیک چینل رابطے شروع کرنے کا کام سونپا گیا۔
تاہم، پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے ایسی کوئی ہدایت جاری ہونے کی تردید کی۔
فراز کے تبصرے اس موقف کی بازگشت کرتے ہیں۔ انہوں نے عدالتی فیصلوں کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ مبینہ طور پر تین مختلف ججوں کے فیصلوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما حماد اظہر کے اپنے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فراز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئےحماد اظہر کو ایک پڑھا لکھا لیڈر قرار دیا اور پارٹی میں اندرونی گروہ بندیوں کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اظہر نے پی ٹی آئی نہیں چھوڑی۔