جمعرات کے روز ریڈیو فری یورپ/ ریڈیو لبرٹی کے سربراہ اسٹیفن کیپس نے انکشاف کیا کہ امریکی حکومت نے روس میں اس کے روسی زبان میں نشر ہونے والے پروگراموں کے سیٹلائٹ سگنلز کو اچانک بند کر دیا ہے۔
یہ اقدام اُس وقت سامنے آیا جب امریکا کی حکومت نے مارچ کے وسط میں اس ادارے کی فنڈنگ روکنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد ریڈیو فری یورپ نے امریکی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔
امریکا اور روس کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک کے مابین میڈیا کی آزادی اور آزادی اظہار پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اپنی انتظامیہ کے تحت اخراجات میں کٹوتی کرنے کی کوشش کی اور اس کے نتیجے میں امریکی ایجنسی برائے عالمی میڈیا (USAGM) نے ریڈیو فری یورپ کو درپیش مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ اس کے نشریاتی سسٹمز میں بھی روکاوٹ ڈال دی۔
ریڈیو فری یورپ/ ریڈیو لبرٹی نے امریکی ایجنسی کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا اور عدالت سے عارضی حکم امتناعی حاصل کیا تھا لیکن اس کے باوجود امریکی ایجنسی نے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کے سیٹلائٹ کنٹریکٹس کو منسوخ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا رفاع پر قبضہ: 97 فلسطینی شہید، لاکھوں شہریوں کو گھروں سے بے دخل کردیا گیا
اس فیصلے کے نتیجے میں ’’کرنٹ ٹائم‘‘ ٹی وی پروگرام، جو روس، یوکرین، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کے علاقوں میں نشر ہو رہا تھا، اس کا سلسلہ اچانک بند ہو گیا۔
اسٹیفن کیپس نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ جب وہ دفتر پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ امریکی ایجنسی نے ’’کرنٹ ٹائم‘‘ کی نشریات کو یورپ تک پہنچانے والے سیٹلائٹ سروسز کو بند کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’’ہمیں اس دن کا سامنا نہیں تھا اور اب ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ اس فیصلے سے روس اور دیگر ممالک میں ہمارے ناظرین تک کس طرح پہنچا جائے۔‘‘
یہ صورتحال ایک اہم سوال اٹھاتی ہے کہ کیا آزادی اظہار اور آزاد میڈیا کے حقوق کو اس طرح کے سیاسی فیصلوں کے ذریعے دبایا جا سکتا ہے؟ اس اقدام سے نہ صرف روسی عوام کو اہم خبروں سے دور رکھا جائے گا بلکہ ان کی آزادی اظہار کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے گی۔
اس اقدام کے پس منظر میں امریکا اور روس کے مابین جاری سرد جنگ کی جھلک نظر آتی ہے جہاں دونوں جانب کے ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے موقف کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اس دوران امریکی ایجنسی برائے عالمی میڈیا نے اس فیصلے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام امریکا کی طرف سے ایک اور سخت پیغام ہے جو خاص طور پر روس کے حکومتی موقف کو چیلنج کرنے والے میڈیا چینلز کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ‘ہر چھ منٹ میں ایک حملہ’ آسٹریلیا میں ہیکرز کے حملوں سے پنشن فنڈز کا نظام سخت متاثر