اپریل 5, 2025 8:43 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ٹلہ جوگیاں: جہاں بادشاہ اپنی جھولی پھیلانے آیا کرتے تھے

زین اختر
زین اختر

تخت ہزارے کا رانجھا شکستہ قدموں اور رنجور دل سے پہاڑ کی کٹھن چڑھائی چڑھ رہا ہے۔ اس کی بانسری  کی تانیں فضا میں درد گھول رہی ہیں۔ یہ ہیر سے بچھڑنے کا غم ہے جس میں وہ دنیا تیاگ کر جوگ لینے گرو بال ناتھ کے پاس پہنچتا ہے۔ گرو بال ناتھ اس غم زدہ عاشق کو اپنی محبت کے سائے میں سمیٹ لیتے ہیں اور اسے اپنے قبیلے میں شامل کر لیتے ہیں اور یوں رانجھا جوگی بن جاتا ہے۔

ہیر رانجھا کا یہ قصہ آج بھی پنجاب کے لوگوں کو بے قرار رکھتا ہے۔ اگرچہ اس قصے کو بیتے صدیاں گزر گئی ہیں لیکن وہ پہاڑ، جہاں رانجھے نے جوگ لیا، ٹلّہ جوگیاں کا تھا اور جہاں پتھر کا ایک تخت آج بھی رانجھے کے جوگ کی یادگار کے طور موجود ہے۔

جہلم سے تقریباً 20 کلومیٹر فاصلے پر سطح سمندر سے 3200 فٹ کی بلندی پر واقع ’ٹلّہ جوگیاں‘ یا جوگیوں کے ٹیلے کے اجڑے کھنڈرات میں صدیاں سانس لیتی ہیں۔

یہ  وہ جگہ ہے جہاں زمینی بادشاہ کبھی تخت اور کبھی اپنے محبوب کو حاصل کرنے آتے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند  ہمیشہ سے جاہ و جلال سے لے کر تصوف کی بلندیوں تک پہنچنے والے عظیم لوگوں کی آماجگاہ رہا ہے۔ اس کی مٹی میں علم و فضل کی خوشبو مہکتی دکھائی دیتی ہے۔ نا صرف جنوبی ایشیا  بلکہ باقی دنیا کے لوگ بھی یہاں تشریف لا کر اپنی بپھری ہوئی زندگی کو سکون کا تحفہ دیتےرہے ہیں۔

یہاں بے شمار مقامات ایسے ہیں جہاں آج بھی علم و سکون کے متلاشی اپنے آپ سے روشناس ہونے تشریف لاتے ہیں۔ بے مثال تاریخ اور عظیم الشان شخصیات کے فیض کو اپنے اندر سموئے   ٹلہ جوگیاں بھی ان ہی مقامات میں سے ایک ہے۔

ٹلہ پنجابی میں ٹیلے کو کہتے ہیں جس سے مراد بلندی والی جگہ ہے اور لفظ جوگیاں سنسکرت کے لفظ جوگ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے دو یا زیادہ چیزوں کے ملنے کی حالت یا کیفیت۔جو لوگ دنیا و مافیہاسے بے خبر علم کی تلاش میں نکلتے ہیں انہیں جوگی کہا جاتا ہے۔ چوں کہ ٹلہ جوگیاں برصغیر پاک و ہند کے جوگیوں کی آماجگاہ رہی ہے اس لیے اس کا نام ٹلہ جوگیاں مشہور ہوا۔ تاریخ میں یہ ٹلہ گورکھ ناتھ اور ٹلہ بال ناتھ بھی کہلاتا رہا ہے۔ گورکھ ناتھ اور بال ناتھ مختلف ادوار میں جوگیوں کے دو گُرو رہے ہیں۔

ٹلہ جوگیاں کم و بیش چار ہزار سال پرانی تاریخ رکھتا ہے۔ آریا چار ہزار سال پہلے وسطِ ایشیا سے اس خطے میں وارد ہوئے۔ وہ قدرتی مظاہر جیسے چاند  اور سورج وغیرہ کی پرستش کیا کرتے تھے۔  ٹلہ جوگیاں پر ایسا مقام بھی موجود ہے جہاں سے اگر سورج کو دیکھا جائے تو طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک سورج ایک خاص زاویہ بناتے ہوئے گزرتا ہے۔

کہتے ہیں کہ آریاؤں کی پہلی قیام گاہ وادیِ جہلم ہی تھی۔ سطح سمندر سے 3200 فٹ کی بلندی پرہونے کی وجہ سےآریاؤں نے ٹلہ جوگیاں کو اپنی مقدس عبادت گاہ کا درجہ دیا۔

ماضی میں کئی عظیم شخصیات اس ٹلے پہ تشریف لائیں اور یہاں موجود جوگیوں سےجوگ حاصل کیا جن میں رانجھے  سے لے کر زمانے کے سلطان شہنشاہِ اکبر  شامل ہیں۔کہا جاتا ہے کہ راجہ پورس کے ساتھ لڑائی کے بعد سکندرِ اعظم کا  گھوڑااسی پہاڑپہ چڑ گیا جس سے سکندر کو بھی پہاڑ پہ چڑھنے کی خواہش پیدا ہوئی اور پھر ٹلہ جوگیاں بھی سکندر کا مسکن بنا۔

اس مقام پہ کسی مذہبی تفریق کے بغیر ہندومت، اسلام، جین مت، بدھ مت اور عیسائیت کے پیروکار تشریف لاتے رہے ہیں۔ ہیر کا رانجھا بھی ہیر کی محبت میں ونجلی(بانسری) بجاتا ہواسکون حاصل کرنے اسی مقام پہ آیا تھا۔ سکھ مذہب کے بانی گرونانک یہیں پہ آ کے چلہ کاٹتے تھے۔ گرو گورکھ ناتھ، گرو بال ناتھ، راجا سلواہن، راجا بھرت ہری، مغل بادشاہ جلال الدین اکبر، نورالدین جہانگیر، غرض کہ ہر عہد کے سلاطین اور ہر مذہب کے پیشوا یہاں تشریف لائے ہیں۔

پورےبرصغیر سے جوگیوں، سادھوں اور فقیروں کے گروہ یہاں آ کر اپنے اپنے انداز میں سچ کی کھوج کیا کرتے تھے۔ جوگی جنگلوں میں رہ کر جڑی بوٹیوں سے نت نئے علاج کے طریقے ڈھونڈتے تھے۔ آیورویدک طریقہِ علاج اور یوگا جیسی ورزش ان ہی جوگیوں کے مرہونِ منت ہے۔  اس کے علاوہ اس ٹلے سے بے شمار کہانیاں منسوب ہیں جو بتاتی ہیں کہ کیسے بادشاہوں سے لے کر غلاموں تک لوگ یہاں آئے اور نروان حاصل کیا۔

ٹلہ جوگیاں کو آباد اور برباد کرنے کے لیے بہت سے لوگ آئے۔ برباد کرنے والوں میں احمد شاہ ابدالی کا نام سرِ فہرست ہے۔ شہنشاہ اکبر جب یہاں آیا تو وہ اِن جوگیوں سے بہت متاثر ہوا اور ان سے پوچھنے لگا کہ میں تمہاری کیا سیوا کر سکتا ہوں۔ جوگیوں نے پانی کے لیے ایک تالاب کا مطالبہ کیا جس کے بعد یہاں ایک عظیم الشان تالاب تعمیر کیا گیا جو  آج بھی موجود ہے۔

تقسیمِ ہند کے بعد یہاں موجود ہندو جوگی انڈیا  کوچ کر گئے جو اس روایت کے زوال کی وجہ بنی۔ اس وجہ سے آج وہاں تالاب، مندر، سمادھیاں ، اور مختلف عبادت گاہیں تو موجود ہیں مگر جوگی موجود نہیں۔ آج یہ مقام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے جسے حکومتی نظر کی سخت ضرورت ہے۔

زین اختر

زین اختر

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس