اپریل 6, 2025 3:50 شام

English / Urdu

Follw Us on:

بلوچستان: سونے کی چڑیا یا دہکتا انگارہ؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

ریت کے طوفان میں لپٹے اس بنجر پہاڑی علاقے میں جہاں سورج کی تپش زمین کو جھلسا دیتی ہے، وہ خزانے چھپے ہیں جن میں کسی بھی ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت ہوتی ہے۔

بلوچستان، پاکستان کا سب سے بڑا مگر سب سے زیادہ محروم، قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ مگر یہ دولت یہاں کے باسیوں کے لیے خوشحالی کی نوید کم اور مشکلات کا پہاڑ زیادہ ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ جس زمین کے نیچے اربوں ڈالر کے خزانے دفن ہوں، وہاں کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہوں؟

چاغی کے تپتے ریگستان میں واقع ریکوڈک کی زمین کے نیچے چھپے خزانے کی کہانی نے جہاں بین الاقوامی کمپنیوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے، وہیں یہ مقامی لوگوں کے لیے ایک اور سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ جب 2022 میں پاکستان اور بیرک گولڈ کارپوریشن کے درمیان معاہدہ ہوا تو حکومتی بیانات میں یہ ظاہر کیا گیا کہ بلوچستان کواس کا 25 فیصد حصہ ملے گا۔ مگر بلوچ قوم پرست جماعتوں کا اعتراض تھا کہ یہ 25 فیصد محض ایک دکھاوا ہے، اصل منافع تو بیرونی کمپنیوں اور وفاقی حکومت کی تجوری میں جائے گا۔

اس منصوبے نے اس سوال کو جنم دیاہے کہ اگر بلوچستان کو واقعی 25 فیصد حصہ دیا گیا ہے، تو اس کا اثر مقامی ترقی پر کیوں نظر نہیں آتا؟

بلوچستان میں معدنی وسائل کا ایک اور مرکز سینڈک ہے، جہاں چینی کمپنی MCC (میتھالرجیکل کارپوریشن آف چائنا) سالانہ لاکھوں ٹن تانبہ، سونا اور چاندی نکال رہی ہے۔ 2022 میں یہاں سے تقریباً 400 ملین ڈالر کی برآمدات ہوئیں، مگر بلوچستان کے عوام کو اس سے کیا ملا؟

بلوچستان ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے مطابق سینڈک منصوبے میں 80 فیصد مزدوروں کا تعلق بلوچ قبائل سے نہیں، مقامی لوگوں کو زیادہ تر نچلے درجے کی نوکریاں دی گئی ہیں۔ اگر یہ بلوچستان کا خزانہ ہے تو پھر یہاں کے لوگوں کو اس خزانے سے خوشحالی کیوں نہیں مل رہی؟

بلوچستان کا ایک اوراہم اثاثہ سوئی گیس ہے۔ اوگرا (OGRA) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل گیس پیداوار کا 45% بلوچستان سے حاصل ہوتا ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ خود بلوچستان کے 75% دیہاتی علاقے گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔

یہ گیس پورے ملک کو توانائی فراہم کر رہی ہے، مگر بلوچوں کی سرزمین پر آج بھی لکڑیاں جلائی جارہی ہیں۔

بلوچستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جن میں چمالانگ، دُکی اور تربت کے کوئلہ فیلڈز قابلِ ذکر ہیں۔

بلوچستان مائننگ ڈیپارٹمنٹ کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق چمالانگ کوئلہ منصوبے سے 2 بلین ڈالر کا کوئلہ نکالا جا چکا ہے۔ پاکستان کا 70% ماربل بلوچستان سے حاصل ہوتا ہے اور دنیا بھر میں برآمد کیا جاتا ہے، مگر کیا اس رقم میں سے بلوچستان کے عوام کو بھی کچھ ملا؟

بلوچستان کی ترقی کے سب سے بڑے دعوے سی پیک اور گوادر بندرگاہ سے جڑے ہیں۔ 2015 میں جب پاکستان اور چین نے 62 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا، تو حکومت نے دعویٰ کیا کہ گوادر ترقی کا مرکز بنے گا۔ مگر حقیقت اس سے مختلف ہے۔

گوادر پورٹ 40 سال کے لیے چین کو لیز پر دے دی گئی اور یہاں سے ہونے والی آمدنی کا صرف 9 فیصد پاکستان کو ملے گا، جب کہ باقی چین لے جائے گا۔ کیا پاکستان کے لیے اتنا کم حصہ لینا واقعی ایک اچھا سودا تھا؟

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس