قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ طے پا گیا، اسرائیل کا ایک طویل عرصے تک یہ کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک کسی بھی جنگ بندی کے معاہدے کے ساتھ اتفاق نہیں کرے گا جب تک کہ اس کی فوجی کارروائیاں مکمل نہ ہو جائیں جو اس نے اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے نتیجے میں شروع کی تھیں۔ اس حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
غزہ کو وسیع تباہی کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں ایک سنگین انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔ حماس کے زیرِ انتظام صحت کے وزرات کے مطابق اسرائیلی حملوں کی وجہ سے 46 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ غزہ کا بیشتر بنیادی ڈھانچہ اسرئیل کے فضائی حملوں سے تباہ ہو چکا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد صرف حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانا تھا، اس نے شہریوں کے جانی نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ حماس نے اسرائیل کے حملوں کا جواب راکٹ فائر کرکے دیا۔
ہلاکتیں اور زخمی
غزہ میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہسپتالوں میں ریکارڈ کی گئی ہلاکتوں اور اہلِ خانہ کی جانب سے رپورٹ کی گئی ہلاکتوں کا شمار کیا ہے جو اب 46 ہزار 788 تک پہنچ چکا ہے۔
وزراتِ صحت کے ریکارڈ کے مطابق 7 اکتوبر 2024 تک کی شناخت شدہ ہلاکتوں پر مبنی ہے، ان میں 59 فیصد خواتین ، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے تجزیے کے مطابق نومبر میں خواتین اوربچوں کی تعداد 70فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
غزہ کی وزراتِ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تنازعے میں 1ایک لاکھ 10 ہزار 453 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے 3 جنوری کو رپورٹ کیا کہ ان متاثرین میں سے 25 فیصد لوگ زندگی بدل دینے والے زخموں کے ساتھ رہ گئے ہیں۔
حال ہی میں لینسیٹ میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد وزارت صحت کے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔وزارت صحت کے ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان تفریق نہیں کی گئی، لیکن اسرائیلی دفاعی فوج (IDF) نے ستمبر 2024 تک 17 ہزار حماس جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم، اس نے اس دعوے کو کس طرح قائم کیا اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔
بنیادی ڈھانچہ اور اسپتال
اس تنازعے نے غزہ بھر کے بنیادی ڈھانچے کو وسیع اور نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔نیچے دی گئی تصدیق شدہ تصویر میں جبالیا کے ایک علاقے کو تنازعے سے پہلے اور پچھلے ہفتے دکھایا گیا ہے۔
سی یو این وائی گریجویٹ سینٹر کے ماہر کوری شئر اور جیمون وین ڈن ہوک ، اوریگن یونیورسٹی کے ماہر غزہ میں ہونے والے نقصان کا سیٹلائٹ تصاویر سے جائزہ لے رہے ہیں ۔ 11 جنوری تک کے اپنے تازہ ترین تجزیے میں انہوں نے اندازہ لگایا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک 59.8 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی بمباری کا بیشتر حصہ شہری علاقوں پر مرکوز تھا اور کچھ بنیادی ڈھانچے کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔
متحدہ قوموں کا سیٹلائٹ سینٹر (UNOSAT) نے زیادہ نقصان کا اندازہ لگایا ہے – اس نے رپورٹ کیا کہ دسمبر کے آغاز میں 69فیصد تمام عمارتیں تباہ یا نقصان زدہ ہو چکی تھیں۔ اقوام متحدہ نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ غزہ کی سڑکوں کے نیٹ ورک کا 68 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
چند اہم طبی اداروں کے ہونے والے نقصان کی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 50فیصد ہسپتال بند ہیں، جبکہ باقی جزوی طور پر کام کر رہے ہیں – جس کا مطلب یہ ہے کہ کھلے رہنے والے ہسپتالوں کے پاس دائمی بیماریوں اور پیچیدہ چوٹوں کے علاج کی سہولت نہیں ہے۔
مس ہسٹر نے بی بی سی ویری فائی کو بتایا کہ اب کئی خصوصی طبی خدمات کے لیے ماہرین اور مخصوص طبی آلات کی کمی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے جاری رہنے کے دوران، جنگ بندی سے قبل غزہ میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں
تعلیمی اداروں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے، اسرائیلی دفاعی فوج (IDF) نے یہ بتایاہے کہ وہ جولائی کے وسط سے حماس جنگجوؤں کو نشانہ بناتے ہوئے 49 بار اسکولوں کی عمارتوں پر حملہ کر چکے ہیں۔ ہم نے دسمبر کے آغاز سے اب تک 13 مقامات پر ایسے حملوں کی تصدیق شدہ ویڈیوز حاصل کی ہیں۔ یہ مقامات عموماً اسکول کے طور پر کام کرنا بند ہو چکے تھے اور اکثر پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔
اس بھاری نقصان کے سبب غزہ میں تعلیم کو دوبارہ معمول پر لانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ بی بی سی نے یہ بھی دستاویزی طور پر دکھایا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد سینکڑوں پانی اور صفائی کی سہولیات کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر، گھروں سے لے کر عوامی سہولتوں کی فراہمی، آنے والے سالوں میں ایک اہم چیلنج ثابت ہوگا۔ مئی میں اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا تھا کہ غزہ کی پٹی کو دوبارہ تعمیر کرنے میں 40 ارب ڈالر کی لاگت آ سکتی ہے۔
غزہ بھر میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر برائے ہم آہنگی کے اندازے کے مطابق 1.9 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں – جو غزہ کی آبادی کا تقریباً 90 فیصد بنتا ہے۔ کچھ افراد ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں کئی بار منتقل ہو چکے ہیں۔
بی بی سی ویری فائی تنازعے کے آغاز سے غزہ میں انخلاء کے احکامات کی نگرانی کر رہا ہے۔ غزہ کی تقریباً 2.3 ملین آبادی کو اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑا ہے کیونکہ اسرائیل نے پورے علاقے میں مسلسل فضائی حملے کیے اور بڑے رہائشی علاقوں کے لیے بڑے پیمانے پر انخلاء کے احکامات جاری کیے۔
حالیہ تجزیے سے ظاہر ہوا کہ اکتوبر سے لے کر نومبر کے آخر تک شمالی غزہ کا تقریباً 90% حصہ انخلاء کے نوٹسز کے تحت تھا جب اسرائیل نے شمالی علاقے میں اہم فوجی آپریشنز کیے۔
انسانی امداد کے علاقے پر بھی اسرائیل نے درجنوں فضائی حملے کیے جہاں اسرائیلی دفاعی فوج (IDF) نے فلسطینیوں کو محفوظ منتقل ہونے کے لیے کہا تھا۔ جہاں پہلے کھلا زرعی رقبہ تھا، وہاں اب ہزاروں خیمے اور عارضی ڈھانچے موجود ہیں۔
امدادی کمی کا سامنا
اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ 91فیصد افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ IPC – ایک گروپ جو حکومتوں، خیراتوں اور ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے – نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حالیہ آپریشنز کے بعد شمالی غزہ میں قحط کی سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔
چیلنجز میں سے ایک زرعی اراضی کو پہنچنے والا نقصان ہے۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے بتایا کہ 67.6فیصد زرعی اراضی کو گولہ باری، گاڑیوں کے نشانوں اور دیگر “تنازعہ سے متعلق دباؤ” کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے۔اقوام متحدہ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ مہینوں میں غزہ تک امداد کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تنازعے سے قبل، ہر کام کے دن غزہ میں 500 ٹرکوں کی امداد آتی تھی۔
یہ تعداد اکتوبر 2023 میں کم ہونا شروع ہوئی تھی اور اب تک بحال نہیں ہو سکی ہے۔
جب امداد غزہ میں داخل ہوتی ہے، تو یہ ہمیشہ اپنے متعین مقاصد تک نہیں پہنچتی۔ امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ مجرمانہ گروہ امدادی فراہمی کو روک کر سامان لوٹنے میں ملوث ہیں، کیونکہ قانون اور نظم و ضبط میں بگاڑ آ چکا ہے۔
اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ تقریباً 1.9 ملین افراد کو ایمرجنسی پناہ گاہ اور ضروری گھریلو اشیاء کی ضرورت ہے۔
جنگ بندی کے نتیجے میں غزہ میں امداد پہنچانے کا عمل آسان ہو سکتا ہے، لیکن اگلا سوال یہ ہے کہ غزہ کی پٹی کو دوبارہ کیسے تعمیر کیا جائے گا۔ 15 مہینوں کی تباہ کن جنگ کے بعد غزہ کے باشندوں کو اسے دوبارہ تعمیر کرنے میں ایک دہائی سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔