اپریل 4, 2025 4:24 شام

English / Urdu

Follw Us on:

سوشل میڈیا عوام کی آواز یا سیاسی پروپیگنڈے کا ذریعہ؟

دانیال صدیقی
دانیال صدیقی

آج کے تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر خبر اور بیان صرف ایک کلک کی دوری پر ہے، سوشل میڈیا نے سیاسی جماعتوں کو عوام تک اپنے پیغامات پہنچانے کا ایک طاقتور اور مؤثر طریقہ فراہم کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم نہ صرف عوام سے براہ راست جڑنے کا ذریعہ بن چکا ہے، بلکہ سیاسی نظریات کو پھیلانے اور عوامی شعور کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا واقعی عوام کی آواز بن رہا ہے؟ یا یہ محض سیاسی پروپیگنڈے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے؟ سیاسی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مہمات اور سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی ایک اہم پہلو ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا سائنسز کی پروفیسر ڈاکٹر یاسمین فاروقی کے مطابق، سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے دوران اخلاقی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ انہیں اپنے کارکنوں
کو تربیت دینی چاہیے تاکہ وہ درست اور ذمہ دارانہ طریقے سے معلومات پھیلائیں اور سماج میں سیاسی شعور کو بہتر انداز میں فروغ دیں۔


تاہم، سوشل میڈیا کی مہمات بعض اوقات معاشرتی نفرت اور سیاسی اختلافات کو بڑھا دیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا کا استعمال مثبت، تعمیری اور تعلیمی انداز میں کریں تاکہ ایک صحت مند جمہوری معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ تو سوال یہ ہے: کیا سوشل میڈیا کی طاقت عوام کے فائدے میں استعمال ہو گی؟ یا اس کا غلط استعمال معاشرتی تفرقے اور نفرت کو بڑھا دے گا؟

دانیال صدیقی

دانیال صدیقی

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس