اپریل 5, 2025 1:05 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

لاس اینجلس کی آگ کے نام پر جھوٹی ویڈیوز وائرل، حقیقت کیا ہے؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
لاس اینجلس میں لگی ہوئی آگ کا ایک منظر۔ / گوگل

لاس اینجلس میں 7 جنوری 2025 سے جاری ہولناک آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، لیکن اس کے ساتھ  سوشل میڈیا پر جھوٹی ویڈیوز اور غلط معلومات کا سیلاب بھی برپا ہوگیا۔

عالمی فیکٹ چیک ایجنسی فرانس پریس  (اے ایف پی)   نے تحقیق کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو جسے لاس اینجلس کی آگ سے منسوب کیا جا رہا ہے، حقیقت میں ستمبر 2024 کی ہے اور اس کا موجودہ آگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں ایک ساحلی علاقے کو دکھایا گیا ہے جہاں آگ کے شعلے اور دور تک دھوئیں کے بادل نظر آ رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ جذباتی موسیقی بھی شامل کی گئی ہے، جس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔

اس ویڈیو میں ایک ساحلی علاقے کو دکھایا گیا ہے جہاں آگ کے شعلے اور دور تک دھوئیں کے بادل نظر آ رہے ہیں۔(فوٹو: اے ایف پی)

فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائٹ اے ایف پی کے مطابق لاس اینجلس کا ساتھ جوڑ کر جھوٹی ویڈیو اصل میں جنوری 2025ء کی نہیں ہے بلکہ یہ ویڈیو ستمبر 2024ء کی ہے، جسے ابھی لاس اینجلس کے ساتھ جوڑ کرپروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔  اس ویڈیو کو 12 ستمبر 2024 ء کو  آگ کے  پرتشدد واقعہ کے دوران  کیلفورنیا کے نیوز چینل اے بی سی  7 نے نشر کیا تھا۔

اس وقت یہ ویڈیو کیلیفورنیا کے شمالی علاقوں میں لگی آگ کے دوران منظر عام پر آئی تھی۔ ویڈیو میں دکھائی دینے والے مقامات کی تحقیقات ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر سے کی گئیں، جس نے آگ کے شعلوں اور متاثرہ  علاقوں کی واضح نشاندہی کی۔

13 ستمبر 2024ء کو ناسا نے سیٹلائٹ کے ذریعے بنائی گئی تصاویر کو اپنی ویب سائیٹ پر پبلش کیا تھا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ کے شعلے کہاں سے اٹھ رہے ہیں۔  ناسا نے متاثر ہونے والی جگہ کو سرخ  نشانوں سے واضح کیا ہے جس میں متاثر ہونے والی جگہوں  پل، لائن اور  ائیرپورٹ کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اس ویڈیو میں دکھائے جانے والے متاثرہ علاقےشہر کے  شمال اور مشرق میں 3 جگہوں یعنی  لائن ، ائیر پورٹ اور پل میں لگی آگ کودکھایا گیا ہے۔ آگ  ان 3 جگہوں پر مختلف اوقات میں باترتیب 5 ستمبر کو شام 6 بج کر 33 منٹ پر لائن میں، 8 ستمبر کو دوپہر 2 بج کر 22 منٹ پر پل میں اور 9 ستمبر 2024 کودوپہر ایک بج کر 21 منٹ پر ائیر پورٹ میں  لگی تھی۔

 ان 3 مقامات کو لاس اینجلس کی آگ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے جو کہ حقیقت میں لاس اینجلس میں اس کا کوئی تعلق نہیں ہے جس کی اصلیت ابھی تک تحقیقات کے ذریعے قائم نہیں ہو سکی ۔

اسکرین شاٹ، 15 جنوری2025 کو ناسا کی ویب سائٹ سے لیا گیا، جس میں10 ستمبر سے آگ لگنے کے تین واقعات کی سیٹلائٹ تصاویر دکھائی دے رہی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

یاد رہے کہ 7 جنوری کو کیلی فورنیا کے تین مقامات پر زبردست آگ لگی تھی جس نے ہزاروں ایکڑ زمین کو اپنی لپیٹ میں لےلیا تھا، یہ آگ ہالی ووڈ ہلز میں بھی لگی تھی جہاں ہالی ووڈ فلم انڈسٹری کے کئی بڑے ستاروں کے گھر جل کر خاک ہوگئے۔

کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات اور فائر پروٹیکشن کے مطابق 7 جنوری 2025ء کو لگنے والی  آگ نےتین مقامات پلیسیڈز، ایٹن اور ہرسٹس پر لگی تھی   جو کہ باترتیب صبح ساڑھے 10 بجے، شام 6 بج کر 18 منٹ پر اور رات 10 بج کر 29 منٹ پر لگی تھی۔

کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات اور فائر پروٹیکشن کے مطابق تیز ہواؤں اور خشک موسم نے آگ کو مزید پھیلنے کا موقع فراہم کیا۔ 2011 کے بعد پہلی بار ہوا کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی اور جس نے آگ کے شعلوں کو مزید بھڑکا دیا۔

2021 کے بعد پہلی بار ہوا کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی اور جس نے آگ کے شعلوں کو مزید بھڑکا دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

 ماہرین موسمیات کے مطابق کیلیفورنیا میں بارش نہ ہونے کے باعث درخت اور جنگلات انتہائی خشک ہو چکے تھے، جو آگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ بنے۔ 8 ماہ کی خشک سالی کے دوران درختوں کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ معمولی چنگاری بھی بڑے پیمانے پر آگ لگا سکتی تھی۔

عالمی فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائیٹ اے ایف پی نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کو جھوٹی قرار دیا اور کہا کہ یہ پراپیگنڈا کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان ویڈیوز کا موجودہ لاس اینجلس کی آگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیوز دراصل پچھلے سال ستمبر میں کیلیفورنیا کے مختلف علاقوں میں لگنے والی آگ کی ہیں، جو غلط بیانی کے ذریعے حالیہ واقعے سے جوڑی جا رہی ہیں۔

ماہ کی خشک سالی کے دوران درختوں کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ معمولی چنگاری بھی بڑے پیمانے پر آگ لگا سکتی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اس کے علاوہ ماہرین نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ آگ سے متعلق مستند ذرائع پر انحصار کریں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر ویڈیو کو حقیقت نہ مانیں۔ غلط معلومات کی روک تھام کے لیے رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط بنانا اور سچائی کی تصدیق کے لیے عالمی اداروں کی مدد لینا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ لاس اینجلس کی حالیہ آگ کے ساتھ جھوٹی ویڈیوز کا پھیلاؤ نہ صرف غلط معلومات کو عام کر رہا ہے بلکہ متاثرین کی اصل صورتحال کو بھی دھندلا رہا ہے۔ فیکٹ چیکنگ اداروں کی تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وائرل ویڈیوز کا لاس اینجلس کی موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ان جھوٹی معلومات پر یقین کرنے کے بجائے مستند ذرائع سے حقائق معلوم کریں۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس