اپریل 5, 2025 1:11 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

نئے امریکی صدر کے آتے ہی ٹک ٹاک بحال

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

چین کی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے ایک دن کی بندش کے بعد دوبارہ اپنی خدمات شروع کر دیں۔ اس کی وجہ وہ متنازعہ قانونی آرڈر  تھا جس کے تحت امریکا میں اس ایپ کو بند کر دیا جانا تھا لیکن نومنتخب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک غیر متوقع قدم نے اس پر لگائی گئی پابندی کو مؤخر کر دیا جس کے بعد ٹک ٹاک نے فوری طور پر اپنی خدمات بحال کر دیں۔

یہ خبر اس وقت سامنے آئی جب ٹک ٹاک نے اپنے صارفین کو ایک پاپ اپ پیغام کے ذریعے بتایا کہ ایپ دوبارہ فعال ہو چکی ہے اور اس میں ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔ اس پیغام میں کہا گیا کہ “ہم نومنتخب ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ضروری وضاحت فراہم کی اور اس بات کا یقین دلایا کہ ہم امریکا میں ٹک ٹاک کا مستقبل محفوظ رکھیں گے۔”

صدر ٹرمپ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہاتھا کہ”میں تمام کمپنیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹک ٹاک کو بند نہ ہونے دیں! میں پیر کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے جا رہا ہوں تاکہ اس قانون کو مزید وقت مل سکے اور ہم قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک معاہدہ کر سکیں۔”

اتوار کو واشنگٹن میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک کو بچانے کی ضرورت ہے۔ امریکا کوٹک ٹاک کی نصف ملکیت حاصل کرنی چاہیے۔ٹک ٹاک کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کھربوں ڈالرتک پہنچ سکتی ہے۔ بڑے AI پلانٹس کی اجازت کے ایمرجنسی اختیارات استعمال کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے خود ٹک ٹاک کے بند ہونے کی حمایت کی تھی مگر حالیہ دنوں میں انہوں نے اس ایپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ان کے انتخابی مہم کے دوران ٹک ٹاک پر ان کی ویڈیوز نے اربوں ویوزحاصل کیے۔ ٹرمپ کا یہ اقدام ایک غیر متوقع موڑ تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف تبدیل کر چکے ہیں۔

ٹرمپ اپنے حامیوں سے خطاب کررہے ہیں(فوٹو:رائٹرز)

دوسری طرف امریکی سپریم کورٹ نے بھی اس قانون کو حمایت فراہم کی تھی جس کے بعد ٹک ٹاک کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا تھا کہ وہ کس طرح اس قانون کو نظر انداز کر کے اپنی خدمات جاری رکھ سکے گا۔ تاہم اس کے بعد ٹرمپ نے کمپنیوں کو اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ ٹک ٹاک کی خدمات کو دوبارہ فعال کرنے میں کوئی قانونی مشکلات کا سامنا نہیں کریں گے۔

اس کے باوجود یہ سوالات بھی موجود ہیں کہ آیا ایگزیکٹو آرڈر اس قانون کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنا سکتا ہے یا نہیں۔ یونیورسٹی آف رچمنڈ میں قانون کے پروفیسر کارل ٹوبیاس نے’بی بی سی‘سے بات کرتے ہوئے کہا ہےکہ’اس بارے میں ابھی تک واضح صورتحال نہیں ہےاور یہ کہ یہ معاملہ عدالتوں میں بھی جا سکتا ہے،۔ ان کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے قانون کی رکاوٹوں کو مؤخر کرنا ممکن ہے مگر اس بات کا تعین ابھی باقی ہے کہ آیا اس کے قانونی نتائج کیا ہوں گے۔

ٹک ٹاک کے لیے ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کی کئی ریاستوں نے ایپ کے خلاف مقدمات دائر کر رکھے ہیں، اس کے علاوہ گوگل اور ایپل جیسے پلیٹ فارمز پر ٹک ٹاک کی موجودگی ابھی تک غیر یقینی ہے کیونکہ یہ دونوں کمپنیاں اس قانون کے تحت اپنی ایپ اسٹورز سے ٹک ٹاک کو ہٹانے کی تیاری کر چکی تھیں۔

امریکا میں ٹک ٹاک کے صارفین اورسیاسی حلقوں میں اس تبدیلی کے اثرات پر بحث جاری ہے۔ ٹک ٹاک کے ذریعے امریکی سیاست میں نوجوانوں تک پہنچنے کے نئے راستے کھلے ہیں اور ایپ کی بندش سے اس نئے سیاسی ذریعہ کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ لیکن ٹرمپ کے اقدامات نے فی الحال اس خطرے کو ٹال دیا ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس