پولیس اور ریلوے ذرائع کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کے اوقات میں کیا گیا، جب کہ مذکورہ مال بردار ٹرین گزشتہ پانچ دنوں سے احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی تھی۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ راکٹ لگنے سے ٹرین کا انجن مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے، جس کے باعث ٹرین کو آگے لے جانے کے لیے متبادل انجن بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، تاہم تاحال دوسرا انجن موقع پر نہیں پہنچ سکا۔
حکام کے مطابق خوش قسمتی سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ریلوے ٹریک اور سامان کی حفاظت کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ احمد وال ریلوے اسٹیشن نوشکی اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کے لیے ایک اہم لاجسٹک پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے مختلف نوعیت کا سامان ترسیل کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔
نجی نشریاتی ادارے ایسکپریس نیوز کے مطابق اسی علاقے میں گلنگور کے مقام پر بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے) پر واقع ایک اہم پل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پل کو شدید نقصان پہنچا۔
پولیس ذرائع کے مطابق پل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ پل نوشکی کو دیگر اضلاع سے ملانے والا ایک اہم راستہ ہے، اور اس کی تباہی کے باعث آمدورفت میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، انڈیا جس زبان میں بات کرے گا، اسی میں جواب دیں گے، وزیراعظم
ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے فوری بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے احمد وال ریلوے اسٹیشن اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں گشت مزید بڑھا دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم اب تک کسی بھی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ واقعات بلوچستان میں ریلوے تنصیبات اور شاہراہوں کو درپیش مسلسل خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد حملوں کے باعث ٹرانسپورٹ سسٹم بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ان واقعات کے بعد مسافروں اور تاجروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ ایسی کارروائیوں سے سامان کی ترسیل اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے صورتحال پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد ہی متاثرہ مقامات پر مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گا، تاہم مقامی حلقوں کی جانب سے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔







