اڈیالہ جیل کے قریب ماربل فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ جب تک سلمان صفدر باہر نہیں آئے، ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ملاقات ہوئی ہے یا نہیں۔ سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی خیریت سے ہیں۔ ہم نے زیادہ سوالات نہیں کیے کیونکہ انہیں سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرنی ہے۔

علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ سال اگست میں بتایا تھا کہ انہیں ایک آنکھ سے دھندلا نظر آ رہا ہے۔ جیل ٹرائل کے دوران بھی جب ان سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اب وہ آنکھوں میں ڈراپس ڈال رہے ہیں اور عینک کا نمبر بھی تبدیل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں صحت کا کوئی مسئلہ ہو تو ہم بہترین ڈاکٹروں سے علاج کراتے ہیں، تو بانی پی ٹی آئی کا علاج بھی متعلقہ بیماری کے ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جانا چاہیے۔ اس میں کیا حرج ہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کی موجودگی میں ماہر ڈاکٹر بانی پی ٹی آئی کی بیماری کی تشخیص اور علاج کریں؟

علیمہ خان نے کہا کہ سلمان صفدر نہ کوئی پیغام دیں گے اور نہ ہی میڈیا سے گفتگو کریں گے۔ وہ کل سپریم کورٹ کو ملاقات اور حالات سے آگاہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چیف جسٹس آف پاکستان کے شکر گزار ہیں، کیونکہ سب کی نظریں ان پر تھیں۔ بانی پی ٹی آئی کا حق ہے کہ انہیں انصاف ملے۔

علیمہ خان نے مزید کہا کہ چیف جسٹس نے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک وکیل کو ملاقات کی اجازت دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جیل انتظامیہ بیرسٹر سلمان صفدر کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہے، کیونکہ وہ عدالت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن کا کہنا تھا کہ ہم ڈھائی سال سے غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں اور عدالتوں سے صرف انصاف مانگ رہے ہیں۔ اس وقت اصل امتحان عدالتی نظام کا ہے، اور اب یہ دیکھنا ہوگا کہ چیف جسٹس کے احکامات پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے۔