صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ ہفتے بھارت نے افغانستان کے راستے پراکسی کارروائیوں میں اضافہ کیا، لیکن طالبان رجیم نے دیکھا کہ پاکستان اپنی ریڈ لائن پار کرنے والوں کے سامنے کس طرح مضبوط ردعمل دیتا ہے،پاکستان نے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے سفارتکاری کی تمام ممکنہ کوششیں کیں اور کسی بھی ریاست کو اپنی سرزمین پر حملے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں جیسے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان کی وابستہ تنظیموں کے حملے بالکل برداشت نہیں کیے جائیں گے اور کسی کو اجازت نہیں کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرے،جب بھی قومی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا، پاکستان نے تحمل اور مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا اور سرحدوں پر بلا اشتعال حملوں کا پیشہ ورانہ جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کی یکجہتی اور قوم کی ثابت قدمی کی بدولت افواج پاکستان نے دشمن کے حملے کو ناکام بنایا اور وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ہر شہید اپنے خاندان کی نمائندگی کرتا ہے جس نے ملکی استحکام کے لیے عظیم قربانی دی، اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہداء کے اہل خانہ کی عزت اور وقار کے ساتھ کفالت جاری رکھے۔
مزید پڑھیں: ایران میں تعینات 650 پاکستانی شہری محفوظ مقامات پر منتقل، سفیر مدثر ٹیپو
انہوں نے مزید کہا کہ قوم کو چاہئے کہ وہ اپنی افواج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو صرف اعداد و شمار میں نہ سمجھے بلکہ ان کی بہادری، خدمت اور عزم کو فخر کے ساتھ یاد رکھے۔ صدر نے کہا کہ نڈر سپوتوں کی مستعدی، بہادری اور قربانی کی بدولت آج پاکستان محفوظ اور مضبوط ہے۔
انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کو ایک موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہر پاکستانی کے لیے یاد دہانی ہے کہ ملکی خودمختاری، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کے لیے مستقل محنت اور عزم کی ضرورت ہے، اور افواج پاکستان اس عزم کو عملی شکل دینے میں پیش پیش ہیں۔







