تفصیلات کے مطابق یہ خلائی جہاز انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) تک خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کے بعد اب اسٹیشن سے نکلنے والا ہے۔ واپسی سے قبل اسے اسٹیشن کے کچرے، ناکارہ آلات اور پرانے ہارڈویئر سے بھر دیا گیا ہے، جو زمین کے ماحول میں داخل ہوتے ہی جل کر ختم ہو جائیں گے۔

خلائی جہاز کی روانگی کا عمل دو مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں خلائی اسٹیشن کا روبوٹک بازو کنیڈارم 2 اسے ہارمونی ماڈیول کے ارتھ فیسنگ پورٹ سے علیحدہ کرے گا۔

دوسرے مرحلے میں جاپانی کنٹرولرز خلائی جہاز کے سینسرز کی جانچ کریں گے، جب یہ اب بھی روبوٹک بازو کے ساتھ منسلک ہوگا۔ اس کے بعد اسے آزاد مدار میں چھوڑ دیا جائے گا۔

آزاد ہونے کے بعد ایچ ٹی وی-ایکس1 تقریباً تین ماہ تک زمین کے مدار میں رہے گا اور مختلف سائنسی تجربات اور ٹیکنالوجی ٹیسٹ انجام دے گا۔ بعد ازاں اسے زمین کی فضا میں واپس بھیجا جائے گا جہاں یہ دوبارہ داخل ہوتے ہی جل کر محفوظ طریقے سے ختم ہو جائے گا۔

یہ خلائی جہاز دراصل جاپان کے پرانے کارگو پروگرام ایچ-II ٹرانسفر وہیکل (ایچ ٹی وی) کا جدید متبادل ہے۔ پرانے ایچ ٹی وی پروگرام کے تحت 2009 سے 2020 کے درمیان انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن تک نو کامیاب کارگو مشنز بھیجے گئے تھے۔

ایچ ٹی وی-ایکس1 کو 25 اکتوبر کو لانچ کیا گیا تھا، جو تقریباً 9 ہزار پاؤنڈ یعنی 4 ہزار کلوگرام سے زائد سامان لے کر گیا تھا۔ 28 اکتوبر کو یہ کامیابی کے ساتھ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن تک پہنچا، جہاں روبوٹک بازو کنیڈارم 2 نے اسے پکڑ کر اسٹیشن کے ہارمونی ماڈیول سے جوڑ دیا تھا۔

مزید پڑھیں: آرٹیمس ٹو مشن، ناسا نے راکٹ میں خرابی دور کر دی، اپریل میں چاند کے گرد پہلی انسانی پرواز متوقع

دوسری جانب امریکی خلائی ایجنسی ناسا بھی انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی توانائی بڑھانے کے لیے ساتواں نیا سولر پینل نصب کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے لیے جلد ایک خلائی چہل قدمی (اسپیس واک) بھی کی جائے گی۔

اس وقت انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن تک سامان پہنچانے کے لیے مختلف کارگو مشنز مسلسل کام کر رہے ہیں، جن میں روس کا پروگریس خلائی جہاز، سگنیس کارگو مشن اور اسپیس ایکس ڈراگن شامل ہیں۔ ان میں سے اسپیس ایک ڈراگن واحد ایسا خلائی جہاز ہے جو دوبارہ استعمال کے قابل ہے۔