اپریل 4, 2025 4:21 شام

English / Urdu

Follw Us on:

سیف علی خان کے 15 ہزار کروڑ داؤ پر لگ گئے

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
سیف علی خان کے 15 ہزار کروڑ کی جائیداد: کون جیتے گا، حکومت یا خاندان؟

معروف بالی وڈ اداکار سیف علی خان اس وقت ایک قانونی تنازعے میں گھِرے ہوئے ہیں جس کی جڑیں پاکستان سے جڑتی ہیں،بالی ووڈ کے اس اسٹار پر چاقو سےحملے کی خبریں تو میڈیا کی سرخیوں میں رہ چکی ہیں لیکن اب ان کی جائیداد اور پاکستان سے تعلق کا تنازعہ زیادہ زور پکڑ چکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا کی حکومت سیف علی خان کی 15 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیداد ضبط کرنے جا رہی ہے؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کی وجہ کیا ہو گی؟

بھوپال کا شاہی خاندان اور پاکستان کا تعلق

یہ تمام تنازعہ اس جائیداد کے حوالے سے ہے جو بھوپال کے نواب خاندان کی موروثی ملکیت تھی۔

ہندوستان کی آزادی سے پہلے بھوپال ایک شاہی ریاست تھی اور اس کے نواب حمید اللہ خان کی سب سے بڑی بیٹی عابدہ سلطان 1948 میں پاکستان چلی گئیں۔

اس کے بعد 2015 میں حکومتِ ہند نے اس زمین کو “دشمن کی جائیداد” قرار دے دیا، اس ایک فیصلے نے پورے تنازعے کو جنم دیا، اور سوالات اٹھنے لگے کہ اس جائیداد کا کیا ہوگا؟

پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1965 کی جنگ کے بعد “اینیمی پراپرٹی ایکٹ” منظور کیا گیا تھا جس کے تحت وہ افراد جنہوں نے انڈیا چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا ان کی جائیدادوں اور کاروباروں کا کنٹرول حکومتِ انڈیا نے سنبھال لیا۔

اس قانون کے مطابق پاکستان یا چین کی شہریت اختیار کرنے والے افراد کی جائیداد “دشمن کی جائیداد” قرار پاتی ہے اور ان کا انتظام حکومت کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔

دوسری جانب سیف علی خان کی جائیداد میں کئی اہم جائیدادیں شامل ہیں جن میں بھوپال کی موروثی جائیداد “فلیگ سٹاف ہاؤس”، “نور الصباح پیلس”، “دارالسلام”، “حبیبی بنگلہ”، “احمد آباد پیلس”، اور “کوہِ فضا” کی پراپرٹیز شامل ہیں۔

قبل ازیں جب حکومتِ ہند نے 2015 میں ان جائیدادوں کو “دشمن کی جائیداد” قرار دیا تو سیف علی خان کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا ہو گیا۔

ان کی والدہ شرمیلا ٹیگور اور خود سیف علی خان نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس فیصلے کے خلاف قانونی جنگ شروع کر دی۔

سیف علی خان کا اس جائیداد سے تعلق اس وقت بنتا ہے جب ہم عابدہ سلطان کی کہانی پر نظر ڈالیں۔

عابدہ سلطان جو بھوپال کے نواب حمید اللہ خان کی بیٹی تھیں،انہوں نے 1948 میں پاکستان جانے کا فیصلہ کیااور اس فیصلے کے بعد ان کی جائیداد پر حکومت انڈیا نے اپنا قبضہ جمانا شروع کیا۔

2015 میں جب حکومتِ انڈیا نے ان جائیدادوں کو “دشمن کی جائیداد” قرار دیا، تو یہ بات مزید پیچیدہ ہو گئی کہ آیا سیف علی خان ان جائیدادوں کے قانونی وارث ہیں یا نہیں؟

بی بی سی اردو کے مطابق سیف علی خان اور ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ یہ جائیدادیں دراصل ان کی دادی ساجدہ سلطان کی ہیں اور اس پر ان کا قانونی حق ہے۔

ساجدہ کی شادی پٹودی کے نواب افتخار علی خان سے ہوئی تھی جو انڈیا کے سابق کرکٹ کپتان منصور علی خان پٹودی کے والد تھے اور سیف علی خان کے دادا تھے۔

اس بنیاد پر سیف علی خان کے وکلا کا موقف ہے کہ یہ جائیدادیں “دشمن کی جائیداد” قرار نہیں دی جا سکتیں کیونکہ یہ انڈیا میں واقع ہیں اور اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دسمبر 2024 میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس تنازعے پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ سیف علی خان اور ان کے خاندان کو اینیمی پراپرٹی ایکٹ کے تحت اپیل دائر کرنی ہو گی۔

اس فیصلے کے بعد یہ سوالات مزید گمبھیر ہو گئے کہ آیا سیف علی خان کی 15 ہزار کروڑ کی جائیداد حکومتِ انڈیا کے قبضے میں چلی جائے گی یا وہ اس قانونی جنگ میں کامیاب ہو پائیں گے۔

اس وقت تمام نظریں اس قانونی جنگ پر مرکوز ہیں اور کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔

سیف علی خان کی جائیداد پر حکومت کا قبضہ ایک پیچیدہ قانونی مسئلہ بن چکا ہے جس میں ان کے خاندان کا حق تسلیم کرنے کی جدوجہد جاری ہے۔ یہ تنازعہ صرف قانونی نہیں بلکہ انڈیا اور پاکستان کے سیاسی اور تاریخی تعلقات سے بھی جڑا ہے جس کی قیمت مالی سے بڑھ کر ایک گہرا سیاسی پہلو اختیار کر چکی ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس