اے این پی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی نے جوش خطابت میں بانی پاکستان کے خلاف ’ہرزہ سرائی‘ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اپنے قائد محمد علی کو رہا کرو،ہتھکڑی میں وہ دنیا سے فرار ہوگیا،اور قبر میں گھس گیا‘۔
سوشل میڈیا پرسینیٹرایمل ولی خان کی ایک ویڈیووائرل ہے جس میں کہہ رہے ہیں کہ آج ہم کم سے کم اتنے مطمئن ہیں۔ یہ بات میں نے سینیٹ میں بھی کی اس پہ آگ لگ گئی۔ لیکن آج میں اس کے پیچھے بڑے قریب پہنچا ہوں۔۔
ایمل ولی نے کہا ’جو قیدی 70 سال سے قید ہے۔ آج میں فخر کرتا ہوں کہ باچا خان نے اپنی زندگی چالیس سال قید گزاری ہے۔ لیکن باچا خان تاریخ میں آزاد ہے، آج آزاد ہے، کل آزاد ہوگا‘۔
عبدالغفارخان المعروف باچا خان، جنہیں فرنٹیئر گاندھی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1929 میں خدائی خدمت گار تحریک کے نام سے ایک تحریک کا آغازکیا،جو اس وقت کے صوبہ سرحد میں اتنی مقبول ہوتی ہے کہ 1937 کے انتخابات میں شمال مغربی سرحدی صوبے میں مسلم لیگ اس کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہیں کر سکتی۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ ’ہمارا لیڈر آزاد ہے۔ ہماری تاریخ کھلی کتاب ہے۔ جس پہ پی ایچ ڈیاں لکھی ہوتی ہیں۔ خدارا اپنے محمد علی کو آزاد کرو۔ پاکستان کا پہلا قیدی، ریاستی قیدی ۔ادھر ہمارے بڑے قریب سامنے پڑا ہوا ہے۔
’ میں آج پاکستانی ہونے کے ناطے ایک دفعہ پھر مزارِ قائد سے یہ آواز اٹھاتا ہوں اس ریاست کو کہ اپنے قائد محمد علی کو آزاد کرو۔ اس کو تم لوگوں نے ہتھ کڑی زیارت میں ڈالی تھی۔اسی ہتھ کڑی میں دنیا سے فرار ہوگیا۔ اسی ہتھکڑی کو لے کے وہ قبر میں گھس گیا ہے‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ اورآج تک ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہتھکڑی اس قبر میں بھی موجود ہے۔ ہم فخر کرتے ہیں کہ ولی خان کی تاریخ آزاد ہے۔ اس پہ لوگ پی-ایچ-ڈیز کرتے ہیں‘۔
ایمل ولی خان کی ویڈیوکو’ایکس‘ پرشیئر کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے لکھا ہے کہ’ قائداعظم کے بارے میں آپ کے الفاظ کا چناؤ نہایت نامناسب، گستاخانہ اور ناقابل قبول ہے۔ آپ نے کروڑوں پاکستانیوں کی دل آزاری کی ہے۔ وہ کہیں(پڑے ہیں) نہ کبھی (فرار ہوئے)، نہ کہیں(گھسےہیں)،۔
قائد اعظم رح کے بارے میں آپکے الفاظ کا چناؤ نہایت نامناسب ،گستاخانہ اور ناقابل قبول ھے -آپ نے کروڑوں پاکستانیوں کی دلآزاری کی ھے۔وہ نہ کہیں (پڑے ھیں )نہ کبھی (فرار ھوۓ )نہ کہیں (گھُسے ھیں )۔
سیاسی اختلاف کا یہ طریقہ کسی طور درست نہیں ،آپ نے جو کہنا تھا اور جنھیں کہنا تھا وہ… pic.twitter.com/MWQSoaGfIk
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) January 28, 2025
سعد رفیق نے مزید لکھا ہے کہ سیاسی اختلاف کا یہ طریقہ درست نہیں، آپ نے جو کہنا تھا اور جنہیں کہنا تھا وہ آپ سے کہا نہیں گیا، نا جانے آپ کیوں قائداعظم کے پیچھے پڑگئے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے ایمل ولی خان کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔
یاد رہے کہ ولی خان نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور1986 میں بائیں بازوں کی چھوٹی جماعتوں بشمول نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور عوامی تحریک کو ضم کر کے عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔
1990 میں اس پارٹی کی قیادت تبدیل ہوئی اور ولی خان سے اسفندیار ولی خان کو منتقل کی گئی۔ اسفند یار ولی خان کے بعد اس پارٹی کی قیادت ایمل ولی خان کے ہاتھ لگی ہے۔
مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق کی تنقید اور پوسٹ کو سوشل میڈیا صارفین نے سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’عوام کے جذبات کی ترجمانی کا شکریہ‘۔